ویپس کے فلیورنگ کیمیکلز جوڑوں کیلئے نقصان دہ
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ای سگریٹ میں استعمال ہونے والے فلیورنگ کیمیکلز، بالخصوص دارچینی اور مینتھول کے ذائقے، نکوٹین کے بغیر بھی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔امریکی ریاست نیوجرسی کی سیٹون ہال یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق ویپس میں شامل بعض فلیورنگ کیمیکلز جوڑوں اور کارٹیلیج کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تجربات میں ان کیمیکلز کے باعث اے ٹی ڈی سی 5 کارٹیلیج سیلز کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے۔محققین کے مطابق ان فلیورنگ کیمیکلز نے کارٹیلیج خلیوں کی صحت مند ٹشوز بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں خلیوں میں سوزش پیدا ہوئی جبکہ ایسے حیاتیاتی راستے بھی متحرک ہوئے جو ٹشوز کے ٹوٹ پھوٹ اور سوجن کا سبب بن سکتے ہیں۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور سیٹون ہال یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا کوٹریل نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای سگریٹ کے فلیورنگ ایڈیٹیوز کو محض بے ضرر ذائقہ دینے والے اجزا سمجھنا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ نکوٹین کی عدم موجودگی کے باوجود یہ کیمیکلز خلیوں کے میٹابولزم، جین ایکسپریشن اور سوزش سے متعلق حیاتیاتی راستوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔محققین کے مطابق اس تحقیق سے ویپنگ کے جسم کے عضلات، ہڈیوں اور دیگر ٹشوز پر ممکنہ اثرات کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ تاہم اس تحقیق کے نتائج کو انسانی جسم میں ویپنگ کے طویل مدتی اثرات کا حتمی ثبوت قرار دینے کے بجائے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں