دماغی خلیوں کو روشنی سے کنٹرول کرنے پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل
واشنگٹن: روشنی کے ذریعے دماغی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی آپٹوجنیٹکس کی ترقی پر تین سائنس دانوں کو 2026 کا نوبیل انعام برائے طب دے دیا گیا۔امریکا کے کارل ڈائسراتھ جبکہ جرمنی کے پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل کو آپٹوجنیٹکس کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے روشنی کی مدد سے دماغ کے مخصوص عصبی خلیوں کو فعال یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔نوبیل کمیٹی کے مطابق اس ٹیکنالوجی نے زندہ دماغ میں انفرادی عصبی خلیوں کی سرگرمی کو روشنی کے ذریعے کنٹرول کرنا ممکن بنایا، جس سے سائنس دانوں کو دماغ میں معلومات کے پراسیسنگ کے عمل اور مختلف نیورونز کے باہمی رابطے کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔اس تحقیق کی بنیاد روشنی کے لیے حساس پروٹینز کی دریافت اور ان کے مطالعے پر ہے۔ پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل نے 1990 کی دہائی میں روشنی کے ردعمل کا مطالعہ کرتے ہوئے اس شعبے میں اہم پیش رفت کی، جبکہ کارل ڈائسراتھ نے بعد ازاں اس ٹیکنالوجی کو چوہوں کے عصبی خلیوں پر استعمال کرکے دماغی سرگرمی کو روشنی کے ذریعے کنٹرول کرنے کا عملی طریقہ پیش کیا۔آپٹوجنیٹکس کے ذریعے شیزوفرینیا، الزائمر، پارکنسنز، مرگی اور نشے سمیت مختلف دماغی امراض کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ محققین اس ٹیکنالوجی کو بینائی بحال کرنے اور سماعت سے متعلق آلات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے بھی آزما رہے ہیں۔تاہم انسانوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکنہ علاج ابھی زیادہ تر تجرباتی مراحل میں ہیں۔تینوں سائنس دانوں کو مجموعی طور پر 12 ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم دی جائے گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں