بشریٰ انصاری کی فلمی دنیا میں واپسی، فہد مصطفیٰ کے ساتھ نئی فلم کا اعلان

کراچی: سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے فلمی دنیا میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ جلد اداکار فہد مصطفیٰ کے ساتھ ایک نئی فلم میں نظر آئیں گی۔بشریٰ انصاری کے مطابق بیرونِ ملک اپنی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس آچکی ہیں اور اب تین نئے منصوبوں میں کام کرنے جارہی ہیں، جن میں دو ڈرامہ سیریلز اور ایک فلم شامل ہے۔اداکارہ نے بتایا کہ فہد مصطفیٰ کی نئی فلم کی شوٹنگ دسمبر میں شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم فلم کی مکمل کاسٹ کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ معروف کامیڈین سہیل احمد، جنہیں ’عزیزی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بھی فلم کا حصہ ہوں گے۔بشریٰ انصاری نے بتایا کہ ان کے دونوں نئے ڈراموں کی شوٹنگ بالترتیب اکتوبر اور نومبر میں شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ پاکستان میں رہ کر اپنے نئے منصوبوں پر توجہ دیں گی۔اداکارہ نے تصدیق کی کہ رواں برس ڈرامہ ’شیدائی‘ میں نظر آنے کے بعد یہ ان کے نئے پراجیکٹس ہیں۔سماجی مسائل پر بشریٰ انصاری کا مؤقفسماجی مسائل پر اپنے مؤقف اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے کہا کہ وہ عموماً معاشرے میں پیش آنے والے اہم اور متعلقہ واقعات پر ہی بات کرتی ہیں۔میر رضا اور مصطفیٰ عامر کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ جب کوئی معاملہ انہیں حد سے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں، تاہم ان کے بقول وہ ایسی بات نہیں کرتیں جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔پریشے عدنان کے لباس پر سوالات پر ردعملبشریٰ انصاری نے فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام میں ہونے والی گفتگو پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پریشے عدنان ایک باصلاحیت ڈیزائنر ہیں اور پروگرام میں گفتگو کا مرکز ان کی کامیابی ہونی چاہیے تھا، نہ کہ ان کے لباس یا ذاتی انتخاب۔پریشے عدنان نے حال ہی میں نیویارک فیشن ویک میں اپنی ’سیکنڈ سکن‘ کلیکشن پیش کرتے ہوئے شو کا اختتام کیا تھا، تاہم پروگرام میں میزبان نادیہ خان نے ان کے جم کے لباس اور والدین کی جانب سے ان کے انتخاب کو قبول کیے جانے سے متعلق سوالات کیے تھے۔بشریٰ انصاری نے پریشے عدنان کو ان کے کام اور انداز کے حوالے سے منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا لباس اور ذاتی انداز ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق وہ پریشے عدنان سے ملاقات کے موقع پر اس معاملے پر براہِ راست بات کرسکتی ہیں۔سوشل میڈیا تنقید کی بھی حد ہونی چاہیے، بشریٰ انصاریاداکارہ نے کہا کہ مذکورہ پروگرام کے بعد نادیہ خان کو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کے خیال میں آن لائن تنقید کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔بشریٰ انصاری نے سوشل میڈیا پر موجود ناقدین کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ہر شخص خود کو ناقد سمجھنے لگا ہے، چاہے اسے ڈراموں کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں اور اس کا تعلق شوبز انڈسٹری سے ہو یا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی شخص دو مائیک لگا کر پوڈکاسٹ شروع کرتا ہے اور پھر ہر کسی پر تنقید شروع کردیتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں ہر شخص کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتا ہے، تاہم تنقید میں بھی ایک حد ہونی چاہیے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے