لبنان کی صورتحال پر مجتبیٰ خامنہ ای کا اہم بیان، بڑی طاقتوں پر انحصار کرنے والوں کو تنقید کا سامنا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی طاقتوں سے امیدیں وابستہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے مختصر بیان میں کہا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال نے ان لوگوں کو ذلت سے دوچار کیا ہے جو بالادست طاقتوں کے جھوٹے وعدوں پر اپنی امیدیں قائم کرتے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کسی ملک یا حکومت کا نام واضح طور پر نہیں لیا، تاہم ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان خطے میں جاری ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی اور فوجی کارروائیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جاری کشیدگی بھی وسیع تر علاقائی تنازع کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ایران ماضی میں حزب اللہ کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے، جبکہ تہران کی جانب سے جون کے مفاہمتی سمجھوتے کے بعد بھی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کو اہم شرط کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور سفارتی حل کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر سمیت دیگر ثالث دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں، تاہم اہم معاملات پر امریکا اور ایران کے مؤقف میں اب بھی اختلاف موجود ہے۔ایرانی سپریم لیڈر اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز، علاقائی تنازعات اور ایران کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کو بھی لبنان کی صورتحال اور خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں