انشورنس صنعت کے اثاثے 4.1 ٹریلین، پریمیم 778 ارب روپے ہوگیا
اسلام آباد: ملکی انشورنس صنعت کے مجموعی اثاثے 4.1 ٹریلین روپے جبکہ پریمیم 15 فیصد اضافے کے بعد 778 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے انشورنس انڈسٹری کی ڈیٹا رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق 2025 میں انشورنس کمپنیوں نے 10 لاکھ سے زائد کلیمز ادا کیے۔واضح رہے کہ انشورنس انڈسٹری کی جانب سے ادا کیے گئے کلیمز کا ڈیٹا پہلی بار جاری کیا گیا ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق لائف انشورنس سیکٹر میں مجموعی طور پر 410 ارب روپے کے کلیمز ادا کیے گئے، جبکہ نان لائف انشورنس کمپنیوں نے 132 ارب روپے کے کلیمز کی ادائیگی کی۔رپورٹ کے مطابق لائف انشورنس کمپنیوں نے وفات سے متعلق 33 ہزار سے زائد کلیمز ادا کیے، جبکہ نان لائف انشورنس کمپنیوں نے صحت اور حادثات سے متعلق 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد کلیمز نمٹائے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موٹر انشورنس کے 2 لاکھ 82 ہزار سے زائد کلیمز ادا کیے گئے، جبکہ آگ اور املاک سے متعلق تقریباً 11 ہزار کلیمز نمٹائے گئے۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ انشورنس کمپنیوں کے کلیمز کی تفصیلات جاری کرنے سے احتساب میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلیمز کی بروقت ادائیگی پالیسی ہولڈرز کے اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس صنعت کے مجموعی پریمیم میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 778 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ صنعت کے مجموعی اثاثے 4.1 ٹریلین روپے ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع سے کی جانے والی انشورنس کے پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس میں 71 فیصد اضافہ ہوا
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں