الزائمر کی نئی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

سیول: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دماغ میں موجود ایک اہم مالیکیول میں معمولی تبدیلی ممکنہ طور پر یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ الزائمر کی بیماری اعصابی خلیوں کے درمیان غیر معمولی رابطوں سے بڑھ کر یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ماضی کی تحقیقات کے مطابق دماغ میں بننے والے غیر معمولی پروٹین کے گچھے، جنہیں ایمیلائڈ پلاکس اور ٹاؤ ٹینگلز کہا جاتا ہے، الزائمر کی بیماری کی اہم وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق یہ پروٹین گچھے دراصل دماغ میں ہونے والی ایک وسیع تر خرابی کی علامت ہیں، جس کے دوران اعصابی خلیے ضرورت سے زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے سے رابطے کھونے لگتے ہیں اور انہیں سہارا دینے والے خلیے بھی غیر معمولی طور پر متحرک ہوجاتے ہیں۔تاہم، یہ تمام تبدیلیاں آخرکار یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث کیسے بنتی ہیں، یہ اب بھی الزائمر کے اہم معموں میں سے ایک ہے۔جنوبی کوریا کے انسٹی ٹیوٹ آف بیسک سائنس کی نئی تحقیق کے مطابق ایک ریسیپٹر پروٹین مالیکیول ای آر بی بی 4 (ERBB4) اس گتھی کی ایک اہم کڑی ہوسکتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ اعصابی خلیوں کی ایک قسم، جسے ایکسائٹریٹری نیورونز کہا جاتا ہے، میں ای آر بی بی 4 ریسیپٹر کی غیر معمولی سرگرمی الزائمر سے وابستہ کئی مسائل کو بیک وقت جنم دے سکتی ہے۔محققین نے مشاہدہ کیا کہ الزائمر کے عمل کے ابتدائی مرحلے ہی میں ایک مخصوص قسم کے ایکسائٹریٹری نیورونز نمودار ہونے لگتے ہیں اور ان خلیوں میں ای آر بی بی 4 ریسیپٹر موجود ہوتا ہے۔ یہ ریسیپٹر اعصابی خلیوں کو بیرونی سگنلز کا جواب دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے دماغ کے دو اہم اقسام کے خلیوں، ایسٹرو سائٹس اور مائیکروگلیا کا بھی جائزہ لیا۔ یہ خلیے نیورونز کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری یا خراب ہونے والے اعصابی رابطوں کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سائنس دان طویل عرصے سے یہ شبہ رکھتے آئے ہیں کہ الزائمر کی بیماری میں ایسٹرو سائٹس اور مائیکروگلیا کا قدرتی صفائی کا نظام متاثر ہوجاتا ہے۔محققین نے پایا کہ الزائمر جیسی علامات رکھنے والے چوہوں میں ایسٹرو سائٹس اور مائیکروگلیا نے صحت مند ایکسائٹریٹری نیورونز کے درمیان موجود رابطوں کو بھی بڑھتی ہوئی تعداد میں ختم کرنا شروع کردیا۔تحقیق کے نتائج سے یہ امکان سامنے آیا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ الزائمر میں دماغ کے خلیوں کے درمیان رابطے کمزور ہوجاتے ہیں، بلکہ دماغ کا اپنا حفاظتی اور صفائی کا نظام بھی غلطی سے صحت مند اعصابی رابطوں کو ختم کرنے لگتا ہے۔محققین کے مطابق ای آر بی بی 4 ریسیپٹر اس عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم اس تعلق کو سمجھنے اور یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں الزائمر کے علاج یا روک تھام کے لیے کس حد تک کارآمد ہوسکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے