عمران خان کی دو بہنیں بھی 30 روز کیلئے نظربند
لاہور: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بعد عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے نظربند کردیا گیا۔عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ڈپٹی کمشنر لاہور کے احکامات پر تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی سفارش پر دونوں بہنوں کی نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علیمہ خان کی رہائش گاہ سے عظمیٰ خان، نورین نیازی اور ان کے بھانجوں کو حراست میں لیا، جنہیں بکتر بند گاڑی کے ذریعے منتقل کیا گیا۔عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو اہلخانہ سمیت رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ دونوں بہنوں کو نقصِ امن کے خدشے کے پیش نظر 30 روز کے لیے جیل منتقل کردیا گیا۔اس سے قبل پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کو اپر مال سے جم خانہ جاتے ہوئے گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا تھا۔ لٹن روڈ پولیس نے علیمہ خان کو بھی تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا، جبکہ ان کی ذاتی گاڑی تھانے میں کھڑی کردی گئی۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی بہنوں کے خلاف جاری کیے گئے نظربندی کے احکامات کو چیلنج کردیا گیا ہے۔ بیرسٹر تیمور کی وساطت سے دائر درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے غیر قانونی طور پر نظربندی کے احکامات جاری کیے اور تھری ایم پی او کے طریقہ کار کے مطابق احکامات جاری نہیں کیے گئے۔درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، جسے درخواست گزاروں نے قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت سے نظربندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں