بہت گرم چائے، کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
محققین نے خبردار کیا ہے کہ چائے یا کافی کو انتہائی گرم درجہ حرارت پر پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور اس سے غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کے دوران ان افراد کا موازنہ کیا گیا جو اپنی چائے یا کافی کو ’بہت گرم‘ پینا پسند کرتے تھے، ان لوگوں سے کیا گیا جنہوں نے اپنے مشروبات کو صرف ’گرم‘ قرار دیا۔تحقیق کے نتائج میں سامنے آیا کہ بہت گرم مشروبات پینے والے افراد میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا۔ غذائی نالی وہ نالی ہے جو منہ کو معدے سے ملاتی ہے۔محققین نے ’بہت گرم‘ مشروب کے لیے 65 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت مقرر کیا۔ یہی حد انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) بھی بہت گرم مشروبات کو ممکنہ سرطان پیدا کرنے والے عوامل میں شمار کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔اس کے مقابلے میں عام طور پر چائے اور کافی کا درجہ حرارت تقریباً 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔ تاہم، مشروب تیار کرنے کے طریقے اور مختلف علاقوں میں اسے پینے کے رواج کے باعث اس درجہ حرارت میں فرق ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسی مشروب کی نوعیت کے ساتھ ساتھ اسے پینے کا درجہ حرارت بھی صحت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس لیے انتہائی گرم چائے یا کافی کو تیار ہونے کے فوراً بعد پینے کے بجائے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دینا زیادہ محتاط طرزِ عمل ہوسکتا ہے۔تاہم، تحقیق کے نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ چائے یا کافی پینا خود نقصان دہ ہے، بلکہ اس میں مشروبات کے انتہائی گرم درجہ حرارت کے ممکنہ اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں