پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، جبکہ قومی نوعیت کے اہم معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے جوائنٹ اپوزیشن کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق پہلے ہی ہو چکا تھا، تاہم آج جوائنٹ اپوزیشن کے حوالے سے پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی جو خوش آئند رہی۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق قومی ایشوز پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبوں کے معاملے سمیت دیگر اہم مسائل پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، جبکہ اسمبلی اجلاس اور قیدیوں کے معاملے پر بھی جوائنٹ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے متفقہ مشاورت کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور جوائنٹ اپوزیشن کے رہنماؤں کی ملاقاتوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے اپوزیشن وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔مولانا عبدالغفور حیدری کے مطابق اجلاس میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام سمیت مختلف اہم معاملات زیر غور آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی کی لہر، دہشت گردی اور دیگر مسائل پر بھی آل پارٹیز کانفرنس میں بات کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت جن مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان کے حل کے لیے کوشش کی جائے گی کہ اپوزیشن اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے