پاکستان کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندی کا خیرمقدم
اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنےوالی اشیا پر پابندی عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری دو ریاستی حل کے حصول اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔بیان میں پاکستان نے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کے اعلانات کا خیرمقدم کیا۔دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی کارروائیوں کو مسترد کرنے کا واضح اور دوٹوک پیغام دیں گے، کیونکہ پاکستان فلسطینی عوام کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق فلسطینی ریاست 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہونی چاہیے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں