گوگل میسجز میں نیا فیچر، تصویر اصلی یا اے آئی سے تبدیل شدہ ہونے کا پتا چل سکے گا
گوگل میسجز نے ’کنٹینٹ کریڈینشلز‘ نامی نیا فیچر متعارف کروا دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین چیٹ میں شیئر کی گئی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو فائلوں کے بارے میں جان سکیں گے کہ ان میں کس نوعیت کی ترمیم کی گئی ہے اور آیا انہیں کسی مرحلے پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے یا نہیں۔یہ فیچر ’سی ٹو پی اے‘ (C2PA) معیار پر مبنی ہے، جو میڈیا فائل کی تخلیق اور ترمیم کے عمل کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا نظام ہے۔ اس کے ذریعے کسی میڈیا فائل کے ساتھ ایک طرح کا دستاویزی ریکارڈ منسلک ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر غروب آفتاب کی ایک تصویر یہ ظاہر کرسکتی ہے کہ وہ اصل میں کیمرے سے لی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے اے آئی سافٹ ویئر کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔اگر گوگل میسجز کسی میڈیا فائل میں ترمیم کا ریکارڈ تو حاصل کرلے لیکن یہ تعین نہ کرسکے کہ ترمیم اے آئی سافٹ ویئر کے ذریعے کی گئی یا نہیں، تو ایسی فائل کو ’اے آئی ٹولز سے ترمیم شدہ‘ کے طور پر نشان زد کیا جائے گا۔تاہم اس فیچر کی ایک اہم حد بھی ہے۔ کنٹینٹ کریڈینشلز یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ کوئی تصویر حقیقت میں اصلی ہے یا جعلی، بلکہ یہ صرف اس فائل کے ساتھ موجود ریکارڈ کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ میڈیا فائل کے ساتھ کیا کارروائی ہوئی ہے۔اسی طرح اگر کسی تصویر یا ویڈیو کے ساتھ کوئی کنٹینٹ کریڈینشل موجود نہ ہو تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ فائل بالکل غیر تبدیل شدہ ہے۔ ممکن ہے کہ وہ فائل ایسی کسی ایپلی کیشن سے گزری ہو جو اس نئے فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتی، جس کے باعث اس کا ریکارڈ موجود نہ رہا ہو۔اس لیے کسی فائل کے ساتھ کنٹینٹ کریڈینشل کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ تصویر یا ویڈیو جعلی ہے یا مکمل طور پر اصلی ہے۔فی الحال یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر کام کرتا ہے اور گوگل میسجز کے ویب ورژن پر دستیاب نہیں ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے متعلقہ میڈیا فائل کو دبا کر رکھنا ہوگا، اس کے بعد ’انفو‘ پر کلک کرکے نیچے اسکرول کرنے پر ’ہاؤ دِس واز میڈ‘ (یہ کیسے بنایا گیا) کا آپشن نظر آئے گا۔اگر متعلقہ میڈیا فائل کے لیے کنٹینٹ کریڈینشل دستیاب ہو تو گوگل میسجز یہ بتائے گا کہ فائل اصل میں کسی کیمرے یا مائیکروفون سے تخلیق کی گئی تھی یا نہیں، اور اس میں اے آئی یا غیر اے آئی ٹولز کے ذریعے کسی قسم کی ترمیم کی گئی ہے یا نہیں۔تاہم کنٹینٹ کریڈینشلز فی الحال کسی مشکوک تصویر یا ویڈیو سے متعلق ہر تنازع کو مکمل طور پر حل نہیں کرسکیں گے۔ کیمروں، ایپس اور مختلف پلیٹ فارمز میں اس معیار کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی جاری ہے، جس کا مطلب ہے کہ صارفین کی جانب سے بھیجی جانے والی زیادہ تر میڈیا فائلوں کے ساتھ فی الحال ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں