پی سی بی کے فیصلوں پر مکی آرتھر، آفریدی اور شعیب ملک برہم

ویب ڈیسک :پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ مکی آرتھر، سابق کپتان شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران قومی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور کوچنگ اسٹاف میں ردوبدل پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلوں پر سخت تنقید کی ہے۔سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پی سی بی کے حالیہ فیصلوں کو ’انتہائی مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ مسلسل کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ اس صورتحال سے دوچار ہے۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ مستقل مزاج کارکردگی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، استحکام اور ایک مضبوط ڈھانچے کا ہونا ضروری ہے، تاہم پاکستان کرکٹ میں بار بار تبدیلیوں کے باعث مطلوبہ تسلسل قائم نہیں ہو پاتا۔سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی پی سی بی کے فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس اقدام کے پیچھے کیا سوچ یا حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی20 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا کہ صرف 5 ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو عہدے سے ہٹانے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کے اس فیصلے کو ’اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ‘ قرار دیا۔دوسری جانب سابق کپتان شعیب ملک نے بھی اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ اختیار کیے گئے مبینہ رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم سے باہر کیے گئے کھلاڑی اب بھی پاکستان کے قومی کرکٹرز ہیں جنہوں نے ملک کی نمائندگی کی ہے، اس لیے انہیں ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے الفاظ استعمال کرنا توہین آمیز ہیں۔شعیب ملک نے کہا کہ احتساب کا آغاز ان لوگوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے نظام کو نقصان پہنچایا، بالخصوص ایسے کھلاڑیوں سے نہیں جو بینچ پر رہے یا صرف 2 یا 3 ٹیسٹ میچز کھیل سکے۔ ان کے مطابق کسی دورے کے دوران نہیں بلکہ دورہ مکمل ہونے کے بعد احتساب کیا جانا چاہیے۔پی سی بی کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران قومی اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسکواڈ سے ڈراپ کیے گئے 5 کھلاڑیوں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان اور خرم شہزاد سیریز میں اب تک ایکشن میں آچکے تھے، جبکہ عامر جمال اور محمد اویس جعفر کو بغیر میچ کھیلے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔اسی دوران ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور ان کے معاون عمر گل کو بھی ذمہ داریوں سے ہٹا کر پاکستان کے وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن اور سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر ایشلے نوفکے کو کوچنگ کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔پی سی بی کے ان فیصلوں کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے بورڈ کی پالیسی، ٹیم سلیکشن، کھلاڑیوں کے ساتھ رویے اور انتظامی استحکام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے