ایلون مسک کی بڑی پیشگوئی، 2027 تک اے آئی انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے

نیویارک: ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ 2027 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیجیٹل دنیا میں تقریباً ہر کام انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔ایلون مسک نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گفتگو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اے آئی کی موجودہ ترقی کی رفتار برقرار رہی تو 2027 کے آخر تک یہ ڈیجیٹل دنیا میں تقریباً ہر کام سپرہیومن سطح پر کرنے کے قابل ہوسکتی ہے۔ ان کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا۔گزشتہ چند برسوں کے دوران اے آئی ماڈلز نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ جدید ماڈلز سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا جائزہ لینے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور دیگر ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔تاہم، مسک نے واضح کیا کہ ان کی پیشگوئی میں ’’سپرہیومن‘‘ اے آئی کا مرحلہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگا، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی فوری طور پر حقیقی دنیا کے ہر جسمانی کام میں بھی انسانوں سے بہتر ہوجائے گی۔دوسری جانب گیلرمو راخ نے اس امکان کی جانب بھی توجہ دلائی کہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس خودکار طور پر کمزور کمپیوٹر سسٹمز تلاش کرکے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں، جس سے ایسے سسٹمز کے ہیک ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔مسک نے اسی گفتگو میں گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ اپنی تقریباً ایک دہائی پرانی گفتگو کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق پیج اس وقت بھی یہ پیشگوئی کرتے تھے کہ اے آئی ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔اے آئی کے خودمختار اور غیر متوقع رویے سے متعلق خدشات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران ایسے واقعات کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی نے اپنی ایک سکیورٹی رپورٹ میں بتایا کہ داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے ’آرٹیفیکٹری‘ نامی اندرونی سروس کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور معلومات کا تبادلہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے 70 ہزار سے زائد پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد میں ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز کو ہدف بنایا۔اسی طرح اینتھروپک اور میٹا نے بھی اپنے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں توقع سے ہٹ کر یا ’’روگ‘‘ رویہ قرار دیا گیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے