پاکستان کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کا دوٹوک مطالبہ
نیویارک: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ 6 عشروں سے قائم سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرے، کیونکہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔امریکی میگزین میں لکھے گئے مضمون میں سفیر پاکستان نے امریکا میں بھارتی سفیر کی جانب سے لکھے گئے مضمون کا مدلل جواب دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی ساخت، تاریخ، مقصد اور افادیت کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستمبر 1960ء میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھارت کی فیاضی یا پاکستان کو دی گئی کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک عشرے سے جاری مذاکرات کا نتیجہ تھا اور اس قانونی سمجھوتے کی پاسداری دونوں فریقوں پر لازم ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے تحت بھارت کو دریائے راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا، جبکہ پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں کا حق حاصل ہوا۔سفیر پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو بھارت کی جانب سے ناانصافی پر مبنی قرار دینا ان حالات کو یکسر نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جن میں اس معاہدے کے لیے طویل مذاکرات کیے گئے تھے۔رضوان سعید شیخ نے بھارت کا یہ الزام بھی مسترد کردیا کہ پاکستان نے بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے بھی تصدیق کی ہے کہ مغربی دریاؤں پر ہائیڈرو پاور منصوبے معاہدے میں متعین حدود کے مطابق ہونے چاہئیں۔سفیر پاکستان نے کہا کہ اس صورتحال میں تنازع حل کرنے کی کوشش یا ثالثی میں رکاوٹ ڈالنا نہیں بلکہ معاہدے کے تحت حاصل قانونی حق کا استعمال ہے۔ قانونی لحاظ سے سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، نافذ العمل اور دونوں فریقوں پر قانونی طور پر لاگو ہے۔انہوں نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ غیر متعلقہ سیاسی یا سکیورٹی الزامات لگا کر کوئی بھی ریاست عالمی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات ہوں یا دیگر دوطرفہ تنازعات، یہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے، اس کا احترام نہ کرنے یا اسے یکطرفہ طور پر دوبارہ تحریر کرنے کا حق نہیں دیتے۔رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ قانونی پوزیشن واضح ہے اور سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت کوئی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرسکے۔ ان کے مطابق معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ اور قابلِ توثیق معاہدہ نہ کرلیا جائے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ادارہ جاتی سطح پر مذاکرات کے ساتھ ساتھ معاہدے میں موجود تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کو استعمال کرے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں