بلوچستان میں دہشت گردی، ایل پی جی کی قلت کا خدشہ

اسلام آباد: بلوچستان میں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور ایل پی جی ٹینکروں پر حملوں کے باعث ملک میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔اوگرا کی دستاویزات کے مطابق کوئٹہ، نوشکی، دالبندین اور تفتان روٹ پر ایل پی جی کی نقل و حمل متاثر ہونے سے سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ فوری اور مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں ایل پی جی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔دستاویزات کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایل پی جی کی طلب تقریباً 20 لاکھ ٹن ہے، جس کا 70 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف 30 فیصد ضروریات پوری کرتی ہے۔پاکستان میں درآمد ہونے والی ایل پی جی کا تقریباً 75 فیصد بلوچستان کے ذریعے پاک ایران سرحدی راستے سے آتا ہے، اس لیے اس راستے میں رکاوٹ سے ملک بھر میں ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتیں براہ راست متاثر ہوسکتی ہیں۔اوگرا نے ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور اہم سپلائی روٹس کی سکیورٹی مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔دوسری جانب ایل پی جی کی قیمت میں رواں ماہ پہلے ہی 12.89 روپے فی کلو کا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے بعد سرکاری نرخ 254.32 روپے فی کلو مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں صارفین اس سے بھی زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔کسٹمز حکام کے مطابق بلوچستان میں اب تک 30 سے 40 پٹرولیم اور ایل پی جی ٹینکروں پر حملے ہوچکے ہیں، جن سے تقریباً 2 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی قافلوں کے ذریعے نقل و حمل میں بہتری آئی ہے، تاہم حملوں کی روک تھام کے لیے مستقل اور مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے