روس پر پابندیوں کا دائرہ وسیع، ایران پر بھی پابندیاں برقرار
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روس پر عائد پابندیوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف موجودہ امریکی پابندیوں میں بھی توسیع کردی گئی ہے۔قانون کے تحت روس کے خلاف پابندیوں، محصولات اور دیگر اقتصادی اقدامات کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔ اس میں روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ روس کے توانائی اور تجارتی شعبوں سے متعلق مزید اقدامات بھی شامل ہیں۔نئے قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے رواں ہفتے کے آغاز میں روس اور ایران سے متعلق پابندیوں کے اس بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔قانون میں 1996ء کے ایران سینکشنز ایکٹ کی مدت میں بھی مزید پانچ سال کی توسیع کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی قانونی اختیار برقرار رہے گا۔یوں نئے قانون کے ذریعے واشنگٹن نے روس کے خلاف اقتصادی دباؤ کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے ساتھ ایران سے متعلق موجودہ پابندیوں کے قانونی فریم ورک کو بھی مزید پانچ سال کے لیے برقرار رکھا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں