پی ٹی آئی اسلام آباد پر دھاوا بولے گی تو سخت نتائج ہوں گے: محسن نقوی

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کر رہی ہے، تاہم ابھی بھی وقت ہے کہ وہ بند گلی میں جانے سے گریز کرے۔ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ احتجاج کرنے والے آئیں اور ملک 10 سے 20 روز کے لیے بند ہوجائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں زیادہ تر لوگ لانگ مارچ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی وقت ہے، ایسے راستے کا انتخاب نہ کیا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اس بار مستقل لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا اور اپنے کارکنوں کا نقصان نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بڑھکوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم اگر لانگ مارچ کے لیے آنے کی کوشش کی گئی تو اس بار کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی دھرنے کے لیے اسلام آباد آتی ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو خود معلوم نہیں کہ ان کا مطالبہ کیا ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے چیک اپ سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ان کا مطالبہ عمران خان کے طبی معائنے کا ہے تو ان کا چیک اپ گزشتہ رات بھی ہوا ہے۔ عمران خان کے علاج کے لیے قانون کے مطابق ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا چیک اپ پی ٹی آئی کے کہنے پر نہیں ہوگا اور حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے حوالے سے انہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بڑھکیں مار رہے ہیں انہیں بولنے دیا جائے۔ہنگو کے شہداء کے جنازوں میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور کسی وزیر کی عدم شرکت پر محسن نقوی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن اس حد تک جانا انہوں نے پہلے نہیں دیکھا۔ ان کا سوال تھا کہ کیا یہ لوگ اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ شہداء کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے۔وزیر داخلہ نے پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ اس میں ردوبدل عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عوام نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو نئے صوبے ضرور بنیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے