امریکی ٹیرف دھمکی بھی روس کو نہ روک سکی، بھارت کو تیل سپلائی جاری رکھنے کا اعلان

ویب ڈیسک: روس نے امریکی ٹیرف اور ممکنہ ثانوی پابندیوں کی دھمکی کے باوجود بھارت کو روسی تیل کی سپلائی جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔روسی سفیر برائے بھارت ڈینس علیپوف نے کہا ہے کہ ماسکو بھارت کو اس کی توانائی کی ضروریات کے مطابق ’’جتنا تیل چاہیے‘‘ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔روسی سفیر نے امریکی دباؤ کو محض دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات کے باوجود روس اور بھارت کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رہے گا۔روس اس وقت بھی بھارت کا سب سے بڑا خام تیل سپلائر ہے اور اگست 2026 میں بھی روس بھارت کو خام تیل فراہم کرنے والے ممالک میں سرفہرست رہا۔دوسری جانب امریکا روسی تیل خریدنے والے ممالک پر مزید سخت اقدامات کرنے پر غور کر رہا ہے، جن میں بعض تجاویز کے تحت 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنا بھی شامل ہے۔روس کا مؤقف ہے کہ بھارت روسی تیل اپنی توانائی کی ضروریات اور قومی مفاد کے تحت خریدتا ہے، روس کی مدد کرنے کے لیے نہیں۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری اس کی اپنی توانائی کی ضرورت سے متعلق فیصلہ ہے۔تاہم اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کی روسی خام تیل کی درآمد جولائی کے مقابلے میں 26 فیصد کم ہوئی۔ اس کمی کی وجوہات میں روسی سپلائی میں کمی اور چینی ریفائنریوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب کو قرار دیا جا رہا ہے۔اس صورتحال میں روس کی جانب سے بھارت کو تیل کی سپلائی جاری رکھنے کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن روسی تیل کی خریداری کرنے والے ممالک پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے مزید ٹیرف اور دیگر اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے