ایران جنگ جیتتے ہی تیل سستا ہوجائے گا، ٹرمپ نے بڑی پیشگوئی کردی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کی فتح کے بعد تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتیں ’’بہت تیزی سے‘‘ نیچے آئیں گی اور امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی قیمت تقریباً 3 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بالآخر یہ 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہوسکتی ہے۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند ہوئی ہیں اور مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی برقرار ہیں۔فنانشل ٹائمز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 98 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد صورتحال تیزی سے معمول پر آجائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔تاہم، امریکی صدر کی جانب سے پٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن سے نیچے آنے کی پیشگوئی ایک سیاسی دعویٰ ہے، جس کا عملی انحصار متعدد عوامل پر ہوگا۔ ان عوامل میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی، جنگ کے خاتمے کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی مجموعی طلب و رسد شامل ہیں۔ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پہلے ہی سپلائی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، ایسے میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں صورتحال معمول پر آنے کی صورت میں عالمی تیل مارکیٹ پر اس کے اثرات اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں