ڈنمارک نے دمشق میں 14 سال بعد سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا
دمشق: ڈنمارک نے شام کے دارالحکومت دمشق میں تقریباً 14 سال بعد اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا، جسے شام اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اور شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے شرکت کی۔ ڈنمارک نے 2012 کے بعد شام میں اپنا پہلا مستقل سفیر بھی تعینات کردیا ہے۔اس موقع پر ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے شام کی بحالی، استحکام اور پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے مزید 76 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔دونوں ممالک نے یکم ستمبر کو دوطرفہ شراکت داری کے معاہدے کی تیاری پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دمشق اور کوپن ہیگن کے درمیان براہ راست پروازیں 21 ستمبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ڈنمارک کے مطابق دمشق میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا مقصد شام کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔سفارتخانے کا دوبارہ کھلنا شام اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں