ایران نے چین سے 300 سے 400 جدید فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا

تہران: ایران آئندہ چند ہفتوں میں چین سے جدید کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل نظام (MANPADS) کی پہلی کھیپ حاصل کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے چین سے 300 سے 400 جدید مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمز (MANPADS) خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جن میں QW-12 اور FN-16 طرز کے میزائل سسٹمز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کی مالیت 60 سے 70 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان میزائل سسٹمز کی ابتدائی کھیپ آئندہ چند ہفتوں میں ایران پہنچنے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے ایران اور چین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام کی بعض کمزوریاں نمایاں ہو کر سامنے آئیں، جس کے بعد تہران اپنی قلیل فاصلے کی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق چین سے حاصل کیے جانے والے یہ جدید فضائی دفاعی نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور دیگر فضائی اہداف کے خلاف مؤثر سمجھے جاتے ہیں، جس سے ایران کی فضائی دفاعی استعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب چین اور ایران کی حکومتوں نے اس مبینہ معاہدے پر کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ رائٹرز نے بھی اپنی رپورٹ میں اس معلومات کو ذرائع سے منسوب کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف ایران کی دفاعی حکمت عملی مضبوط ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری توازن اور علاقائی سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے