عمان کی تجویز، آبنائے ہرمز کا انتظام خطے کے ممالک مل کر کریں گے

مسقط: عمان نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کے لیے ایک نیا علاقائی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی صرف ایران کے بجائے خطے کے متعلقہ ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک خلیجی ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر یکطرفہ نگرانی کے بجائے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم بحری راستے کے انتظام میں شریک ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق اس تجویز کو خلیجی خطے کے متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم متعلقہ حکومتوں کی جانب سے ابھی تک اس کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نظام آبنائے ملاکا کے کامیاب ماڈل سے متاثر ہے، جہاں بحری راستہ استعمال کرنے والے ممالک اور جہاز رضاکارانہ فیس ادا کرتے ہیں۔ اس رقم سے جہاز رانی کے انتظام، سمندری ماحول کے تحفظ، نیویگیشن کی بہتری اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید محفوظ ہو سکتی ہے، خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی اور عالمی تیل و تجارتی سپلائی چین کو بھی استحکام ملنے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی ہے۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے