نائن الیون کیس: خالد شیخ محمد کا ٹرائل 2028 میں ہوگا
واشنگٹن: امریکی فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سمیت 4 ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کردی۔خالد شیخ محمد کو نائن الیون حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکی تحویل میں منتقل کرکے کیوبا میں قائم گوانتانامو بے جیل میں قید رکھا گیا۔عدالتی حکم کے مطابق خالد شیخ محمد اور دیگر تین ملزمان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل جون 2028 میں شروع ہوگا، جس میں نائن الیون حملوں میں ان کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔نائن الیون حملے 11 ستمبر 2001 کو ہوئے تھے۔ ہائی جیکرز نے چار مسافر طیاروں پر قبضہ کیا، جن میں سے دو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے، جبکہ ایک پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا۔ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف وسیع فوجی اور سکیورٹی مہم شروع کی۔خالد شیخ محمد کی گرفتاری 2003 میں پاکستان میں عمل میں آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد انہیں امریکی تحویل میں منتقل کیا گیا۔ گوانتانامو بے میں ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ کئی سال سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے۔تازہ عدالتی فیصلے کے بعد ٹرائل کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، تاہم آئندہ قانونی کارروائیوں کے باعث شیڈول میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں