روزانہ 30 منٹ کی ورزش ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچاؤ میں مددگار
اسلام آباد: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ صرف 30 منٹ کی ایروبک ورزش بھی خون میں گلوکوز کی سطح بہتر بنانے اور انسولین کی حساسیت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنا کر ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے کو کم کرنے میں معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔اٹلی کے ادارے Centro per le Malattie Endocrine e Metaboliche میں ہونے والی تحقیق میں 20 سے 35 سال کی عمر کے 32 افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں شریک تمام افراد ذیابیطس سے محفوظ تھے اور کسی قسم کی ادویات استعمال نہیں کر رہے تھے۔محققین نے سب سے پہلے شرکاء کے خون میں گلوکوز کی سطح کا جائزہ لیا، جس کے بعد انہیں ہلکی جاگنگ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ورزش مکمل ہونے کے 24 گھنٹے بعد ان کے خون میں گلوکوز کی سطح دوبارہ جانچی گئی، جبکہ انسولین کی مقدار کا بھی جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف 30 منٹ کی ایروبک ورزش کے بعد خون میں گلوکوز کی سطح میں بہتری آئی، جبکہ انسولین کی حساسیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق انسولین کی حساسیت بہتر ہونے سے جسم کو گلوکوز استعمال کرنے میں زیادہ مؤثر انداز میں مدد ملتی ہے۔محققین نے بتایا کہ ورزش کے مثبت اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ 24 گھنٹے بعد بھی ان کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس دوران شرکاء کے خون میں گلوکوز کی سطح کم اور انسولین کی حساسیت بہتر ریکارڈ کی گئی۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے قبل ہونے والی مختلف طبی مطالعات میں جسمانی سرگرمی کو طویل مدت میں گلوکوز کے میٹابولزم اور انسولین کی حساسیت میں بہتری سے منسلک کیا جاچکا ہے، تاہم موجودہ تحقیق میں خصوصی طور پر ورزش کے فوری اور اگلے 24 گھنٹوں تک برقرار رہنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔محققین کے مطابق جسمانی سرگرمی کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم ورزش کی نوعیت اور دورانیہ ہر فرد کی عمر اور جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں