کراچی میں پاکستان کا پہلا ماربل سٹی قائم کرنے کا اعلان

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں پاکستان کا پہلا ماربل سٹی قائم کیا جا رہا ہے، جس سے سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں کراچی ماربل سٹی انڈسٹریل پارک کی پری لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ منصوبے کے تحت سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موجود سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے قدرتی ذخائر کو جدید صنعتی طریقوں سے پراسیس کرکے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کی جائیں گی، جنہیں عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جا سکے گا۔تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر، معروف صنعت کار عارف حبیب، سرکاری حکام، صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے یہ ایک اہم دن ہے اور جدید صنعتی منصوبے کی پری لانچنگ خوش آئند پیش رفت ہے۔ محکمہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور محکمہ سرمایہ کاری اس منصوبے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق قاسم نوید قمر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ اس کے پیچھے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترقی پسند وژن کارفرما ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آبادی میں اضافے، بے روزگاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئی صنعتوں کا قیام اور صنعتی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماربل سٹی اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو صنعتیں قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔سینئر وزیر کے مطابق منصوبے سے قدرتی وسائل کو خام مال کی صورت میں فروخت کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ان کی پراسیسنگ اور تیار مصنوعات کی تیاری کو فروغ ملے گا، جس سے ملک کو معاشی فائدہ ہوگا۔ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کریں گے، جبکہ پری لانچ تقریب کا مقصد سرمایہ کاروں کو منصوبے کی تفصیلات اور دستیاب مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ماربل سٹی میں فی ایکڑ زمین کی اوسط قیمت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مقرر کی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے زمین کی مکمل قیمت یکمشت ادا کرنا لازمی نہیں ہوگا، بلکہ انہیں اقساط میں ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں، تاہم ان سے اب تک بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کاروباری برادری کو سہولیات اور مراعات فراہم کریں، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں اور صنعتوں کے قیام میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔سینئر وزیر نے زرعی شعبے کو بھی ملکی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو زرعی برآمدات بڑھانے اور پیداوار کو جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زرعی بنیادوں پر صنعتیں قائم کرنے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دورۂ چین کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے گئے، جہاں توانائی اور زرعی صنعتوں کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے تقریباً بیس سال قبل جدید طرز کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ سندھ حکومت کے ایس باس منصوبے کو عالمی بینک اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبے بھی سندھ کے کامیاب تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اگر پنجاب سمیت دیگر صوبے سندھ کے اچھے منصوبوں کو اپناتے ہیں تو انہیں خوشی ہوگی۔ اسی طرح سندھ حکومت بھی پنجاب کی کسی اچھی پالیسی یا منصوبے سے استفادہ کرنے میں خوشی محسوس کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ 2011 سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے تحت نئے کاروبار شروع کرنے یا پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے کے خواہش مند افراد کو بینکوں سے قرض حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ قرضوں پر شرحِ منافع کا بڑا حصہ سندھ حکومت برداشت کرتی ہے، جبکہ کاروباری افراد کو کائبور کے علاوہ صرف ایک فیصد شرحِ منافع ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں متعلقہ سہولت کے تحت کاروباری افراد کو پانچ فیصد شرحِ منافع ادا کرنا پڑتی ہے۔شرجیل میمن کے مطابق سندھ حکومت کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینا اور لوگوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے کاروباری افراد کے لیے ون ونڈو آپریشن کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار معلومات اور ضروری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ شہری حکومت سندھ کے آن لائن نظام کے ذریعے گھر بیٹھے تجارتی لائسنس اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کر سکتے ہیں۔ کاروبار سے متعلق معلومات، دستاویزات اور سہولیات حکومت سندھ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔سینئر وزیر نے کہا کہ پاکستان میں نئی صنعتیں قائم کرنے کے لیے سندھ اور بالخصوص کراچی موزوں مقامات میں شامل ہیں۔ کراچی کی جغرافیائی اہمیت، موجودہ صنعتی ڈھانچے اور بندرگاہوں کے باعث یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے صنعتی سامان کراچی کی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی کے حالات خراب ہونے سے صنعت کار شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے، تاہم اب حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فروغ دیا جائے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ ان کے مطابق شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے کراچی کے شہریوں اور پورے ملک کو فائدہ ہوگا، جبکہ کراچی پورٹ سے شاہراہِ بھٹو تک مکمل ایلیویٹڈ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے۔ اس منصوبے سے سفر کا دورانیہ 45 منٹ سے کم ہو کر تقریباً 12 منٹ رہ جائے گا۔شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور متعدد پر کام جاری ہے۔ سندھ حکومت شہر کو دوبارہ عالمی معیار کا بین الاقوامی شہر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کراچی کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ شہر بین الاقوامی شناخت رکھتا تھا، یہاں ٹرام چلتی تھی اور دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ تعلیم حاصل کرنے اور تعطیلات گزارنے آتے تھے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شہر کے حالات متاثر ہوئے، تاہم اب بہتری اور ترقی کا عمل دوبارہ آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات بھی بہتر ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر ملک کی شناخت میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ شرجیل میمن نے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ نے متحد ہو کر ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اب حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ دفاع کے ساتھ معاشی محاذ پر بھی پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنائیں۔سینئر وزیر نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے امن، استحکام اور اتحاد کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اور ٹیکس ادا کرنے والے شہری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ زرعی بنیادوں پر صنعتوں کا فروغ بھی معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر نے کہا کہ سندھ حکومت صرف ماربل سٹی ہی نہیں بلکہ ہر شعبے کو ترقی دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کے چار منصوبوں کو عالمی بینک کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا ہے، جن میں شاہراہِ بھٹو بھی شامل ہے۔ حکومت مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور قرضے فراہم کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔قاسم نوید قمر نے بتایا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو لائسنس سمیت مختلف معاملات میں سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ تمام اکنامک زونز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سولر اور ہائیڈرو سمیت توانائی کے مختلف ذرائع کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے