حوثی حملوں کا خطرہ، سعودی آرامکو کا ہیڈکوارٹر خالی کرانے کا حکم

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ 6 ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آرامکو نے ہیڈکوارٹر میں موجود عملے کو عمارت چھوڑنے کی ہدایت کی۔ خطے میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی نے اپنے مرکزی دفتر سے ملازمین کے انخلا کا حکم دیا ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تازہ ہدایات کس مخصوص خطرے کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔ آرامکو نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یہ فیصلہ دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے تازہ حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث خطے میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر پہلے بھی حملہخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آرامکو کے بیشتر غیر ضروری ملازمین گزشتہ ہفتے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کے بعد سے گھروں میں رہ کر کام کر رہے تھے، تاہم اب دفتر میں موجود ضروری عملے کو بھی واپس جانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ظہران میں قائم آرامکو کمپلیکس کے رہائشی حصوں کو خالی نہیں کرایا گیا۔رائٹرز کے مطابق رواں ماہ حوثیوں نے آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا اور کئی منزلوں تک آگ پھیل گئی۔ اے ایف پی نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے عمارت کی بالائی منزلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے، تاہم نقصان کی مکمل نوعیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ظہران میں قائم آرامکو کا مرکزی دفتر سعودی عرب کے تیل اور گیس کے شعبے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں موجود آپریشنز سینٹر کے ذریعے کمپنی کے تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، برآمدی مراکز اور ہزاروں کلومیٹر طویل پائپ لائنوں کے نظام کی نگرانی کی جاتی ہے۔دمام ایئرپورٹ پر حملے میں 2 افراد ہلاکسعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق بدھ کی شام دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں 2 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ دمام، آرامکو کے ظہران ہیڈکوارٹر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حملے کے بعد ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن بحال کردیا گیا۔اسی روز سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ ملک کے جنوب مشرق میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، تاہم اس واقعے میں بھی 2 افراد جاں بحق ہوئے۔سعودی عرب میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی سختسعودی عرب نے حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں یمن میں میزائل لانچر کے مقامات پر کارروائیاں کی ہیں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنایا جاچکا ہے۔دوسری جانب مسلسل حملوں اور آرامکو کے مرکزی دفتر سے عملے کے انخلا کی خبروں نے عالمی توانائی کی منڈی میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ آرامکو سعودی معیشت اور عالمی تیل کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، تاہم تاحال ایسی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ تازہ انخلا کے باعث کمپنی کی تیل کی پیداوار یا برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔کمپنی کی جانب سے مرکزی دفتر خالی کرانے کی مخصوص وجہ اور ملازمین کی واپسی کی تاریخ کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے