میاں عامر محمود کا چھوٹے انتظامی یونٹس کا مطالبہ، پاکستان کی گورننس پر اہم سوالات

لاہور: چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ مقصد ایسا انتظامی نظام تشکیل دینا ہے جس کے ذریعے ملک کے عوام کی زندگی آسان بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی حاصل نہیں کر سکا اور ملک کا کوئی بھی ضلع اپنی استعداد کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا۔پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اکیڈمی میں زیرِ تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ انہوں نے 2008ء سے چھوٹے انتظامی یونٹس کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد کسی قسم کی ذاتی یا سیاسی بحث نہیں بلکہ انتظامی مسائل کا عملی حل تلاش کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوالات پوچھنے سے معاملات کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔میاں عامر محمود نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان کو چار صوبے ملے تھے، جبکہ مشرقی پاکستان پانچویں اکائی تھا، جو بعد میں الگ ملک بن گیا۔ ان کے مطابق دوسرے ممالک وقت کے ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دیتے رہے، لیکن پاکستان میں پرانا صوبائی ڈھانچہ برقرار رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حدود اور سرحدیں تاریخ میں مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہیں، اس لیے انتظامی تقسیم پر بحث کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔انہوں نے بلوچستان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں طویل فاصلے اور دشوار گزار حالات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آنے کے بعد انتظامیہ کو پہنچنے میں پورا دن لگ سکتا ہے۔ ان کے بقول جب انتظامی مسائل کا جواب اعداد و شمار کے بجائے جذباتی نعروں سے دیا جائے تو اصل مسئلے کا حل تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے انسانی ترقی کے اشاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی بنیادی شعبوں میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً 40 فیصد بچوں کی نشوونما درست انداز میں نہیں ہو پاتی، جبکہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پاکستان دنیا میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے حوالے سے موجودہ ناکامیاں صرف آج نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ گزشتہ 80 برس کے دوران ملک میں ترقی کا بڑا حصہ دارالحکومتوں اور بڑے شہروں تک محدود رہا ہے۔ ان کے مطابق لاہور سے باہر نکل کر مختلف علاقوں میں غربت اور بنیادی سہولتوں کی کمی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت متعدد شہروں کے رہائشی اپنے علاقوں کی خراب صورت حال کی شکایت کرتے ہیں، جبکہ دارالحکومتوں کے قریب واقع علاقوں میں تعلیمی سہولتیں نسبتاً بہتر اور دور دراز علاقوں میں صورت حال زیادہ خراب نظر آتی ہے۔انہوں نے صاف پانی کی عدم دستیابی کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ ملک میں بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج کا پانی دریاؤں میں چھوڑا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی علاقوں میں لوگ انہی نہروں اور دریاؤں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق آلودہ پانی کو صاف کرنے کے مؤثر نظام کے بجائے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے پر توجہ دی گئی، تاہم ان کے خیال میں 99.9 فیصد فلٹریشن پلانٹس فعال نہیں ہیں۔تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 97.2 فیصد اسکولوں میں متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے تیسری جماعت سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن صرف لاہور میں بیٹھ کر 60 اسکولوں کو کنٹرول کرنا مؤثر انتظامی نظام نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب اسکولوں میں اساتذہ ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی جاتیں، جبکہ سندھ میں مجموعی بھرتیوں کے حوالے سے بھی انہوں نے سوال اٹھایا۔میاں عامر محمود نے نظامِ انصاف میں تاخیر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چوری اور ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث افراد کو سزا ملنے کے حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق گاڑی چھیننے جیسے واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی دو گواہوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم جتنی زیادہ خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، اسے انجام تک پہنچانے کے لیے اتنی ہی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قتل کے مقدمے کا فیصلہ ہونے میں 17 سے 18 سال لگ جاتے ہیں، جس دوران ملزم اور مدعی دونوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو بہتر بنانے میں پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انتظامی اصلاحات کی تجویز پیش کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا کہ ہر ڈویژن کو صوبے کی حیثیت دینے کے امکان پر غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی تقسیم کی جائے تو پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 8 اور اسلام آباد میں ایک صوبہ قائم ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گورننس کی صورت حال نسبتاً بہتر ہونے کے باوجود فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں بھی معیاری یونیورسٹیوں، اسکولوں اور اسپتالوں کی کمی کے مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق بحث کا مقصد صرف صوبوں کے چھوٹے یا بڑے ہونے کا تعین کرنا نہیں بلکہ ایسا عملی اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے جس سے عام شہریوں کو بنیادی سہولتیں میسر آ سکیں۔میاں عامر محمود نے سندھ کی صوبائی شناخت سے متعلق نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی شناخت اور حقوق برقرار رکھنے پر کسی کو اعتراض نہیں، تاہم سکھر جیسے علاقوں میں بچوں کی اموات اور دیگر بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تنقید کا رخ صرف ایک صوبے کی جانب رکھا جائے گا تو اسی صوبے کو مسلسل ہدفِ ملامت بنایا جاتا رہے گا۔انہوں نے وسائل کی تقسیم کے معاملے پر کہا کہ پنجاب بعض اوقات اپنے حصے کے وسائل بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں پنجابی شہریوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال کو وسائل کی تقسیم اور قومی یکجہتی سے متعلق وسیع تر مسائل کے تناظر میں بیان کیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے