شام کا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب سے فوجی تعاون پر غور
واشنگٹن، لندن: امریکی اور برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے شام سے حوثیوں کے خلاف جاری جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ زیرِ غور تجاویز میں دفاعی تعاون، فوجی مہارت کے تبادلے اور حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی سمیت مختلف آپشنز شامل ہیں۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون طلب کیا ہے، تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام اس وقت اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔شامی سفارت کار کے مطابق اگر سعودی عرب کی جانب سے کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی باضابطہ درخواست کی جاتی ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت غور کیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازع میں شام کی ممکنہ شمولیت سے جنگ کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت میں خطے میں حساس نوعیت کا ردعمل سامنے آسکتا ہے، جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتے ہیں۔ایگزیوس کے مطابق شام کے عبوری سربراہ احمد الشرع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ تین امریکی حکام کے مطابق احمد الشرع سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ دمشق یہ درخواست قبول کرلے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں