گورنر کے پی کا گورنر راج کا امکان ظاہر کر دیا

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے اور اس حوالے سے مشاورت بھی ہوئی ہے۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی خاص تیاری نظر نہیں آرہی، پارٹی کے لوگ خود گرفتاریاں دے رہے ہیں اور اب راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہادتیں دے رہی ہے، تاہم اسے مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں جبکہ صوبے کی پولیس کی تنخواہیں بھی سب سے کم ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ڈی ایس پیز کی بھرتی میں 25 فیصد کوٹہ چاہتے ہیں، ہم ایسے غلط ایکٹ کے سامنے دیوار بنیں گے اور اپنی پولیس کا تحفظ کریں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، دوسری جانب لانگ مارچ کی بات کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد جانے اور چڑھائی کرنے کی بات کر رہے ہیں، انہیں پہلے اپنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال دیکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کو سزا دینی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ عدالت کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرپشن، لاقانونیت اور دہشتگردی کے مسائل موجود ہیں اور ایسے حالات میں گورنر راج لگنا کوئی غیر آئینی اقدام نہیں۔گورنر کے پی نے کہا کہ انہیں لگتا ہے پی ٹی آئی آج یا کل لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔ ان کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مشاورت ہو چکی ہے۔دوسری جانب 23 ستمبر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے