ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دے دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں میں شرکت غیر قانونی امریکی اقدامات میں معاونت کے مترادف ہے، لہٰذا تمام ممالک ایران کے خلاف عائد امریکی پابندیوں پر عملدرآمد سے گریز کریں۔وزارتِ خارجہ کے مطابق نئی امریکی پابندیاں لاکھوں ایرانی شہریوں کی صحت اور روزگار کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی اقدامات کا حصہ نہ بنے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے عبوری معاہدے کے نفاذ کے دوران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا۔اس سے قبل تہران میں انٹرنیشنل اسلامک یونٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا تھا کہ اسلامی ممالک کو خطے کی سلامتی خود سنبھالنی چاہیے اور ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچانے کا عہد کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک میں قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے ایسی تمام سرگرمیوں اور بیانات سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جو عوامی حوصلے کو کمزور یا معاشرتی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران ڈالر پر انحصار ختم کرے گا اور دشمن کے بیانیے کو قومی اتحاد کے ذریعے شکست دے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے