سپریم کورٹ نے عمران خان کی منتقلی کیخلاف حکومتی درخواست واپس کردی
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست سپریم کورٹ نے اعتراض لگا کر واپس کردی۔ذرائع کے مطابق نظرثانی درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور ہونے کے بعد نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست میں کچھ ترامیم بھی کی جائیں گی اور ترمیم شدہ نظرثانی درخواست دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔گزشتہ روز وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔چیف کمشنر کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے عدالتی حکم واپس لینے اور نظرثانی کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے اور اس کے ذریعے قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔درخواست میں سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت بھی طلب کی گئی تھی۔ چیف کمشنر کی درخواست کے مطابق 5 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔دورانِ مقدمہ بانی پی ٹی آئی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ 2026 کو درخواست مسترد کردی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔چیف کمشنر کی درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قیدی کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔درخواست کے مطابق دوسرے اسٹیشن کے اسپتال منتقلی کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی پیشگی منظوری ضروری ہے، جبکہ منتقلی کی صورت میں حکومت کو فوری رپورٹ دینا بھی لازم ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ جیل سے باہر اسپتال میں داخل قیدی کی سکیورٹی پولیس کے ذمے ہوتی ہے جبکہ قیدی کے علاج سے متعلق اسپتال کے اخراجات محکمہ صحت برداشت کرتا ہے۔آپریشن کی صورت میں قیدی کو ممکنہ حد تک مقررہ وقت کے قریب اسپتال منتقل اور آپریشن کے بعد جلد از جلد جیل اسپتال واپس لایا جانا چاہیے۔نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 18 اگست کا حکم چیف کمشنر اسلام آباد کے آئینی اور قانونی اختیارات کو براہ راست متاثر کرتا ہے، حالانکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی ایسے شخص پر عدالتی حکم کا منفی اثر پڑتا ہو تو وہ فریق نہ ہونے کے باوجود حکم کو چیلنج کرنے کے لیے اجازت طلب کرسکتا ہے، جبکہ درخواست گزار کا معاملے میں براہ راست، اہم اور قانونی طور پر محفوظ مفاد موجود ہے۔چیف کمشنر کی درخواست کے مطابق معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا تھا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے تحت فریقین کو سماعت کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ میڈیکل بورڈ ان کا علاج کرچکا ہے۔درخواست کے مطابق عدالت نے منسلک مقدمات میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کا ابتدائی تاثر قائم کیا، تاہم مذکورہ رپورٹ میں صحت مزید خراب ہونے کی کوئی واضح نشاندہی موجود نہیں تھی۔چیف کمشنر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ طبی اور تکنیکی معاملات میں عدالت کو ماہرین کی رائے حاصل کرنی چاہیے تھی۔ عدالت کے لیے مناسب طریقہ یہ تھا کہ کسی طبی ماہر سے رپورٹ پر رائے حاصل کی جاتی اور اس کے بعد یہ طے کیا جاتا کہ آیا بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔درخواست گزار کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے علاوہ ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو علاج میں شریک کرنے، اہل خانہ کو صحت سے آگاہ کرنے اور علاج کے دوران مناسب ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔طبی رپورٹس اور معائنے کی مصدقہ نقول وکیل کو فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔چیف کمشنر کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی چاروں استدعائیں مکمل طور پر منظور کرلیں، جس سے پورا معاملہ عبوری مرحلے پر ہی طے ہوگیا اور حتمی فیصلے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ قابلِ سماعت ہونے کے اہم سوال کو مؤخر کرکے عبوری حکم جاری کیا گیا، جبکہ مذکورہ قانونی شقیں اور قیدی کی منتقلی کا مقررہ طریقہ کار عدالت کی توجہ سے اوجھل رہا۔چیف کمشنر نے اسے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی قرار دیتے ہوئے 18 اگست 2026 کا عبوری حکم واپس لینے اور اس پر نظرثانی کی استدعا کی تھی۔درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے، 18 اگست کا عبوری حکم واپس لیا جائے اور اسے سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں