سسٹم فیل ہوچکا، وزیر داخلہ نے درست کہا:وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ

اسلام آباد: وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ نے درست کہا تھا کہ ملک کا سسٹم فیل ہوچکا ہے، اداروں میں موجود کمزوریوں کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ناصر بٹ کی زیر صدارت ہوا، جس میں پی ڈبلیو ڈی کے سابق ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کرنے، تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے معاملات پر تفصیلی بحث ہوئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی کے متعدد سابق ملازمین کو مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے، تاہم بعض ملازمین کو پنشن اور دیگر واجبات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ 100 سے زائد خواتین کے شوہر دورانِ ملازمت انتقال کرگئے، لیکن انہیں تاحال واجبات نہیں مل سکے۔ انہوں نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے پنشن معاملے کو انتہائی حساس قرار دیا۔فنانس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ملازمین پنشن کے اہل نہیں، جبکہ داخلہ حکام نے بتایا کہ 10 ہزار 500 افراد اسی اسٹیٹس پر پنشن وصول کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اگر معاملہ عدالت میں گیا تو حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔اجلاس میں فنانس ڈویژن کے ایک خط کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام نے کہا کہ اگر ایسا خط جاری ہی نہیں کیا گیا تو اسے جعلی تصور کیا جائے گا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے معاملہ ایف آئی اے کو بھیجنے کا عندیہ دیا۔وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ یہ نظام کی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ادارے بند ہوجاتے ہیں، افسران کو حساب نہیں دینا پڑتا لیکن جواب وزرا کو دینا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "حکومت کوئی خیراتی ادارہ نہیں” اور انسانی بنیادوں پر معاملات نہیں چلائے جاسکتے۔ ان کے اس بیان پر سینیٹر خالدہ عطیب نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی جوانی سرکاری اداروں کو دی، ان کے واجبات ادا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ریاض پیرزادہ نے مزید کہا کہ ان کی وزارت ماضی میں بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی سابق وزرا اور ارکان اسمبلی کے دور میں ہونے والے معاملات کا جواب اب انہیں دینا پڑ رہا ہے۔وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ "وزیر داخلہ نے کہا سسٹم فیل ہوچکا ہے، بالکل صحیح کہا، سسٹم فیل ہوچکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جعلی خطوط کے ذریعے اربوں روپے کے فراڈ بھی کیے جاتے ہیں، جس کے سدباب کے لیے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی مختلف محکموں میں ایڈجسٹمنٹ اور انہیں تنخواہوں کی ادائیگی کو اہم پیش رفت قرار دیا اور متعلقہ حکام کو زیرِ التوا معاملات جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے