ایران نے مبینہ جاسوسی کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی دے دی

ایران نے اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی اور حساس فوجی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی ہے۔

ایرانی عدالتی خبر رساں ادارے میزان کے مطابق پیر کو جن افراد کو سزائے موت دی گئی، ان کی شناخت امید بہزاد اور پوریا صفوت کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ دونوں نے اسرائیل کو ایرانی فوجی اور سیکیورٹی مراکز کے محلِ وقوع، تصاویر اور دیگر حساس معلومات فراہم کیں۔

رپورٹ کے مطابق ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ اور گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی مختصر جنگ کے دوران بھی اسرائیل کو اہم سیکیورٹی معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر ایرانی عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوجی حکمتِ عملی سے آگاہ ایک ذریعے نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے حالیہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی متعدد چوکیوں کو زمینی ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا تھا۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ ماہ جاری اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران نے گزشتہ چار ماہ کے دوران قومی سلامتی سے متعلق مبہم الزامات کے تحت کم از کم 50 افراد کو سزائے موت دی، جن میں 18 اور 19 سال عمر کے کئی نوجوان بھی شامل تھے۔

تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رواں سال جنوری میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے ایرانی حکام نے سخت کارروائیاں کیں، جن میں ہزاروں مظاہرین کے ہلاک ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ تاہم ایرانی حکومت ان تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں جاسوسی اور قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقدمات میں شفاف عدالتی عمل اور سزاؤں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے