ٹرمپ نے منی سوٹا سائبر حملوں کا الزام گورنر ٹم والز پر لگا دیا، کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے ریاست منی سوٹا میں حالیہ سائبر حملوں کا الزام ریاستی حکومت، بالخصوص ڈیموکریٹ گورنر ٹم والز پر عائد کر دیا۔جمعے کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ منی سوٹا پر ہونے والے سائبر حملوں کے پیچھے ایران نہیں بلکہ خود ریاستی انتظامیہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایرانی سائبر حملہ تھا۔ میرے خیال میں منی سوٹا اس کے پیچھے ہے کیونکہ یہ انتہائی نااہل ہیں، ان کا گورنر بھی اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔”تاہم حکام نے تاحال عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ اتوار اور پیر کو منی سوٹا کے 30 سے زائد واٹر سسٹمز کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کے پیچھے کون تھا۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی سیکیورٹی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایرانی ہیکرز پانی کی فراہمی اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس سے الزامات کے شواہد کے بارے میں پوچھا گیا تو انتظامیہ نے صرف ٹرمپ کے کابینہ اجلاس میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا۔ایف بی آئی کی سائبر ڈویژن کی سابق ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ہالسیون رینسم ویئر ریسرچ سینٹر کی سینئر نائب صدر سنتھیا کائزر نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے حملوں کے لیے واضح جغرافیائی اور سیاسی محرکات موجود ہیں اور ماضی میں بھی ایرانی ہیکرز پانی کے نظام کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ان کے مطابق، "زیادہ تر معتبر سائبر سیکیورٹی ماہرین اس وقت تک ان حملوں کو ایرانی کارروائی سمجھیں گے جب تک اس کے برعکس شواہد سامنے نہ آ جائیں۔”دوسری جانب گورنر ٹم والز نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو معلوم ہے کہ حملوں کے پیچھے کون ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دیگر ریاستیں بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جدید جنگ کی ایک مثال ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی میں واضح منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں