امریکی دباؤ مسترد، ملائشیا کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملائشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے کہا ہے کہ امریکا کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے کوالالمپور کے ساتھ سیکیورٹی اور اقتصادی تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کے باوجود ملائشیا کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا میں ملائشیا کے سفیر محمد شہرول اکرام یعقوب نے امریکی محکمہ خارجہ میں طلب کیے جانے پر ملائشیا کے مؤقف کی وضاحت کی۔ وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل سے متعلق ملائشیا کی پالیسی نئی نہیں بلکہ برسوں سے قائم ایک مستقل ریاستی مؤقف ہے، جسے مختلف حکومتیں برقرار رکھتی آئی ہیں۔
ملائشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق محمد حسن نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق ہی نمٹا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائشیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اسی لیے اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ملک میں داخلے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
واضح رہے کہ ملائشیا ایک مسلم اکثریتی ملک ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، اور وہ فلسطینی عوام کی حمایت میں اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں