اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہوگیا تو سب کچھ الٹ سکتا ہے:محسن نقوی
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے، اسے جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے بہتر بنانا ہوگا، ورنہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی مستقبل میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان کی پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ملک بھر سے آئے تاجروں نے معاشی مسائل اور ترقی کے مواقع دونوں کی نشاندہی کی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دہائیوں سے جاری نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر ان کا مکمل یقین ہے، لیکن جمہوری نظام کی مختلف شکلیں موجود ہیں اور پاکستان کو بھی اپنے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، بروقت انصاف اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش بیشتر مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئی قیادت کو آگے لانے میں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے تاکہ قومی اتفاقِ رائے سے اصلاحات کی جا سکیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ نوجوان معمولی مالی امداد یا عارضی سہولتیں نہیں بلکہ میرٹ، روزگار اور مساوی مواقع چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کی خواہشات اور توقعات بروقت پوری نہ کی گئیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "نوجوان یا کاکروچ، جو بھی نام دے لیں، اگر وہ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ الٹ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے مطالبات سامنے آنے سے پہلے ہی ان کے مسائل حل کیے جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے اور انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ بنا کر مزید قرض لینے پر مجبور ہو جاتی ہے، جبکہ بنیادی نظامی اصلاحات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ ان کے مطابق قرض لینے کے بجائے نظام کو درست کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور نئے انتظامی یونٹس، گورننس، انصاف اور دیگر قومی مسائل پر جامع اصلاحات کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کریں۔
محسن نقوی نے کاروباری برادری کو بھی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صرف سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت کے بجائے ملک کے مستقبل کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا بھی ضروری ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں