بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کو نظرانداز نہ کریں

ویب ڈیسک: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص نہ ہونے سے مستقبل میں دل، گردوں اور فالج جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جبکہ معمول کے طبی معائنے اس خطرے کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
15 سالہ میتھیو گڈون کی مثال اس حوالے سے نمایاں ہے۔ طبیعت بگڑنے پر اسے بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (PICU) میں داخل کیا گیا، جہاں دو ہفتے زیرِ علاج رہنے کے بعد معائنوں سے معلوم ہوا کہ اس کا ایک گردہ پیدائشی طور پر خراب تھا، جس کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔
معالجین کے مطابق اگر کم عمری میں ہی اس کا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کیا جاتا تو بیماری کی تشخیص پہلے ہو سکتی تھی اور بروقت علاج ممکن ہوتا۔ ڈاکٹروں نے اس کے علاج کے لیے گردے کی خود پیوندی (Kidney Autotransplant) پر غور کیا، جبکہ اسے بلڈ پریشر کم کرنے کی ادویات بھی تجویز کی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں بلڈ پریشر صرف ظاہری علامات یا کلائی پکڑ کر معلوم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ عمر، قد اور جنس کے مطابق مخصوص پیمانوں پر اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے 3 سے 18 سال کے بچوں کے بلڈ پریشر کے معیاری چارٹس بھی تیار کیے گئے ہیں تاکہ والدین اور معالج بروقت غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کر سکیں۔
گزشتہ برس شائع ہونے والی ایک بڑی طبی تحقیق میں 3 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 10 لاکھ 20 ہزار بچوں کا ڈیٹا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ہزاروں بچوں میں ہائی بلڈ پریشر یا اس سے پہلے کی کیفیت کی نشاندہی ہوئی، جس سے ثابت ہوا کہ بچوں میں اس بیماری کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بچپن میں ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہ ہونے کی صورت میں جوانی میں دل کا دورہ، فالج، گردوں کی خرابی اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروائیں، متوازن غذا، تازہ پھل اور سبزیوں کو معمول بنائیں، نمک اور فاسٹ فوڈ کے استعمال میں کمی لائیں اور کولا مشروبات سے پرہیز کریں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح بھی ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے، جبکہ بازار کی تیار شدہ اور زیادہ نمک والی غذائیں اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے