ابلیس کے تعویذ
خاندان کا نظام دراصل انسانی نسل کی بقاء اورتحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس کی کم سنی میں نگہداشت مہیا کرتا ہے، بے بسی میں سہارا بنتا ہےاور معصومیت میں مامتا کی محبت پیش کرتا ہے۔ والدین کی صورت میں انسان کو بے لوث خادم ، نفسیاتی معالج اور شخصیت کے معمارمہیا کرتا ہے ۔ ہر بچے کو گھر میں ایک معاشی انتظامیہ اورتہذیبی مدرسہ عطا ہو جاتا ہے۔ انسان کی نفسیاتی ضرورتوں کی خبر گیری ، بے لوث گہری محبت ، بے پناہ ہمدردی اور ایثار و خلوص ، بغیر کسی محنت اور قیمت اداکیے عطا ہو جاتے ہیں ۔
خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جس کا نعم البدل پوری کائنات میں کوئی اور میسر نہیں۔ انسان کے موجودہ معاشرتی امراض کا کوئی علاج ، خاندان کے دوبارہ احیاء کے علاوہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ انسانیت کا تحفظ اور بقا، خاندان کے نظام اور ماں کے مقدس مقام کی بحالی ہی میں مضمر ہے۔ کاش اس نعمت کو ہم ابلیسیت کی واردات سے بچا پائیں۔
ہم مستقبل کی ماؤں کی تیاری کا کام کس طرح انجام دے رہے ہیں اس کی ایک جھلک ترقی یافتہ معاشروں میں شائع ہونے والے ان رسالوں میں دیکھی جاسکتی ہے جو کم سن اور نوجوان لڑکیوں کے لئے مخصوص ہیں۔ ان رسالوں میں لڑکیوں کو جنس مخالف سے محبت کرنے اور جنسی دلکشی کو بڑھانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ ہوس سے لبریز محبت نامے لکھنے کا ڈھنگ بتایا جاتاہے۔ان میگزینوں کی بڑھتی اور پھیلتی ہوئی اشاعت خطرناک ہے کیونکہ ان میں جنسی تجربوں کی رودادیں مرچ مصالحے کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔
ان رسالوں کے ذریعے انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ معاشرہ کی تعمیر میں خاندان کی تنظیم میں اور انسانیت کی خدمت میں ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں بلکہ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے لئے جنسی طور پر کس طرح زیادہ دلکش اور مفید ہوسکتی ہیں اور ایسے تجربوں کا آغاز کرنے والی کیسے ہوسکتی ہیں۔ ان رسالوں کے ٹائٹل عریاں تصاویر اور فحش سرخیوں سے مزین ہوتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ جو نوجوانوں کو مسلسل یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ گھر چھوڑیں اور بس محبت کریں۔
یہ سب جنسی آزادی کے علمبردار مفکرین کے تحائف ہیں ، جنہوں نے جنسی تعلیم کو نوجوانوں کے لئے ضروری قراردیا تھا۔ آج ان کی اولاد یہ فریضہ بطریق احسن ادا کررہی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ کی نوجوان دوشیزائیں ساڑھے پندرہ سال کی عمر میں کنوارپن سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں جبکہ یورپ میں اوسطاً دس میں سے نو ، شادی سے قبل جنسی تعلقا ت قائم کرچکی ہوتی ہیں۔ ان کا قصور کیا جو کلچر کے ہاتھوں میں خواہشات کی اسیر ہو گئی ہیں۔کیا ایسی لڑکیاں کسی سنہرے مستقبل کی مائیں بن سکتی ہیں جو خاندان جیسے مثبت اور تعمیر ی ادارے کے کردار سے نہ صرف بے خبر ہیں بلکہ عملاً اس کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔
مغربی قوانین کے مطابق اب بیویاں شوہروں کے ساتھ کسی مقدس معاہدے کی پابند نہیں رہیں بلکہ ایک قانونی ”پارٹنر” کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ریاست اور معاشرے نے اس سلسلہ میں بہت سے آزادیوں سے انسان کو نوازا ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی طلاق کا نت نیا بڑھتا ہوا رجحان اور بکھرتے خاندان…شاید انسان کے اس معاشرتی نظام پر عدم اطمینان اور عدم اعتماد کا اظہار ہیں۔
اس عدم اطمینان نے پہلے شادی کے متبادل کے طور پر بدی کے راستے دریافت کئے اور اب ان سے بھی آگے چل نکلا ہے۔ ڈنمارک ، ناروے اور سویڈن نے ہم جنس پرستی کی باقاعدہ اجازت دی ہے اور دو ہم جنسوں کی شادی تک کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد کئی اور ممالک بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہوں گے۔
ہم جنس پرستی کو ہر مذہب اور تہذیب نے ہمیشہ نفر ت کی نگاہ سے دیکھا ہے اور کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ قوم لوط کے علاوہ اس غیرفطری فعل کو ہمیشہ انسان نے ناپسندیدہ اور قابل نفرت سمجھا ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے افراد کو ہر ریاست میں سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ مگر 1974ء میں سب سے پہلے سلووینیا نے اس کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی۔ لہٰذا گذشتہ تیس سالوں میں یہ گناہ عظیم ارتقا پذیر ہوتا ہوا، شرم و حیا ء کے پردے چاک کرکے ”خوشگوار اور پرمسرت” سرگرمی بن گیا ہے۔
اس عمل کو "فکری جہت ” عطا کرتے ہوئے پہلے تو، انسان کی جبلی کمزوری یا فطری ضرورت کہا گیا۔ اب جسمانی اور طبعی خاصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب جب کہ یہ طے کیا گیا کہ یہ فطری خاصہ ہے تو پھر اسے چھپ کر سر انجام دینے کی کیا ضرورت ہے! لہٰذا جمہوری معاشرے میں اس کا عام ہونا اور اسے پسند کرنے والے لوگوں کی تعدادکی بنیاد پر اسے آئینی تحفظات حاصل ہونا ضروری قرارپاگیا ہے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے پیدا ہونے والے ”آفاقی گاؤں” میں اسے پوری دنیا میں ایک تحریک کی شکل دے دی گئی ہے جس کے مظاہر اور مظاہرے پوری دنیا کے اکثر ممالک میں ہورہے ہیں۔ پورے یورپ میں اب چونسٹھ فیصد لوگ ہم جنس پرستی میں ملوث پائے جاتے ہیں جبکہ بعض یورپی ممالک میں یہ شرح نوے فیصد تک بھی پہنچ چکی ہے۔ الحفیظ الامان!
تہذیب جدید کے انسان نے پہلے تو مردوعورت کے تعلق میں کسی خارجی پابندی کے اصول کا انکار کیا۔ اپنے ہی والدین کی رضامندی کو شامل حال کرنے کے خلاف بغاوت کی۔ نکاح کو ایک سماجی معاہدے سے تعبیر کرکے اس میں کسی اخلاقی پہلو اور تقدس کے رشتے کو ماننے سے عاری ہوا۔ پھر سماجی معاہدے کو معاشی بندھنوں سے آزاد کرکے صرف حصول لذت کا ذریعہ قرار دیا ۔ اس معاملہ میں پھر محدودیت کیسی؟ لہٰذا وہ تعلق زن و شوکی بے کنار وسعتوں سے ہمکنار ہوا۔
جب اس سب کچھ کا مقصد محض حصول لذت ہی ہے تو پھر جنس مخالف پر ہی اکتفا کیوں؟ ایک جنس کے دوافراد بھی باہم لطف اندوز ہوسکتے ہیں! یہ دونوں کا بنیادی حق ہے اسے آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہئے! اب انسانوں کے جنسی تعلق کی ایک اور جہت دریافت کرنا باقی ہے تاکہ مقدس رشتوں کا تکلف باقی نہ رہے اور وہ دن دور نہیں جب اس میں بھی کوئی کراہت نہیں رہے گی ۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
ذرائع ابلاغ کی ترقی اور وسعت نے تہذیبی وبائی امراض اور ثقافتی متعدی بیماریوں کو عالم اسلام میں بھی کہیں کہیں بالعموم اور کہیں کہیں بالخصوص پھیلانا شروع کیا ہوا ہے۔ اگرچہ عقائد کی پاکیزگی نے کسی حد تک ہمیں محفوظ رکھا ہوا ہے مگر رواجی مذہب اور وراثتی عقائد کو ہمارے قلب و ذہن سے کھرچ دینا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرف جو ذہن سازی ہو رہی ہے اس نے ہمیں جدید دورکی ”وسعت قلب و نظر” سے ہمکنار کردیا ہے۔ آزادانہ نقطہ نظر (Relaxed Viewpoint) ہر ایک کا طرہ امتیاز بنتا جارہا ہے،گویا کہ ابلیس کے تعویذوں نے اپنا کام دکھاناشروع کردیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں