لاس اینجلس کی پہلی جنوبی ایشیائی میئر نیتھیا رامن منتخب
امریکی شہر لاس اینجلس میں بھی ایشیائی نژاد خاتون میئر منتخب ہوگئی ہیں۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کی حمایت یافتہ 45 سالہ نیتھیا رامن نے موجودہ میئر کیرن باس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی۔ اس سے قبل نیویارک میں ظہران ممدانی بھی میئر منتخب ہوئے تھے۔امریکی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق نیتھیا رامن نے میئر کے انتخاب میں 52.1 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کی حریف کیرن باس 47.9 فیصد ووٹ لے سکیں۔ کیرن باس نے جمعرات کو اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے نیتھیا رامن کو فون کیا اور کامیابی پر مبارک باد دی۔ انہوں نے اقتدار کی پُرامن منتقلی میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔45 سالہ نیتھیا رامن بھارت میں پیدا ہوئیں اور چھ برس کی عمر میں امریکا منتقل ہوگئی تھیں۔ وہ 2020 میں لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ میئر منتخب ہونے کے بعد وہ شہر کی پہلی جنوبی ایشیائی اور ایشیائی امریکی میئر بن جائیں گی۔نیتھیا رامن کی کامیابی کو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تنظیم نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی بھی حمایت کی تھی۔رامن کی انتخابی مہم میں سستی رہائش کی فراہمی، بے گھر افراد کے مسائل، شہری سہولتوں کی بہتری اور عوامی تحفظ کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ ان کی کامیابی کے ساتھ امریکی سیاست میں ترقی پسند اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی پیش قدمی بھی نمایاں ہوئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس اینجلس کے انتخابی نتائج پر تنقید کرتے ہوئے انہیں افسوس ناک قرار دیا اور انتخابی عمل کے بارے میں سوالات اٹھائے، تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔نیتھیا رامن کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں