پاکستان اور برطانیہ کا سائبر کرائم، منشیات اور ویزا فراڈ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی، منشیات، سائبر کرائم، غیر قانونی امیگریشن اور ویزا فراڈ کی روک تھام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی وزیر مملکت برائے سلامتی ڈین جاروس نے پاکستان کا دورہ کیا اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران افغانستان کی صورتحال، علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور سنگین منظم جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے اور جرائم پیشہ و دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مؤثر بنانے پر زور دیا۔برطانوی وزیر ڈین جاروس نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کو مشترکہ سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ان کا مل کر مقابلہ کرنے سے دونوں ممالک زیادہ محفوظ ہوسکتے ہیں۔وزارت داخلہ میں وفود کی سطح پر مذاکراتبرطانوی وزیر مملکت برائے سلامتی ڈین جاروس نے وزارت داخلہ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جن میں انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، نادرا، سائبر کرائم، امیگریشن، کوسٹ گارڈز اور تربیتی پروگرامز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔برطانوی وزیر نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے مؤثر سدباب کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں پہلے سے بہترین تعاون موجود ہے، جسے مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ڈین جاروس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا بھی اعتراف کیا، جبکہ انسداد منشیات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔منشیات اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقداماتوزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے ذریعے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے درمیان تعاون کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ اسمگل کی جانے والی منشیات کے 330 کیسز ناکام بنائے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان قائم ورکنگ گروپ کا اجلاس بھی جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔محسن نقوی نے اپسکیل پراجیکٹ کے تحت ہونے والی پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں انتہائی اہم ثابت ہو رہا ہے۔اجلاس میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور برطانیہ کے متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔ پاکستانی حکام میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، اسپیشل سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹریز داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اے این ایف، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، چیئرپرسن سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس شامل تھے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے