سوشل میڈیا کی شہرت عارضی، فن کی تربیت ہی دیرپا کامیابی کی ضمانت ہے، شان شاہد
کراچی: پاکستانی فلم و ٹیلی وژن کے معروف اداکار اور ہدایت کار شان شاہد نے سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے افراد کی مین اسٹریم شوبز میں آمد کے رجحان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شان شاہد نے کہا کہ محض مقبولیت کو طویل مدتی کامیابی سمجھنے کے بجائے فن سیکھنے اور باقاعدہ تربیت حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔نئے آنے والوں اور سوشل میڈیا کری ایٹرز کی کاسٹنگ سے متعلق سوال پر شان شاہد نے کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ فلم یا ٹی وی کے کسی منصوبے میں کس شخص کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کری ایٹرز اپنے فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔اداکار نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’آپ کا کیمرہ، آپ کا سرکس! جو چاہیں کریں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میرا اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی شخص کو اچانک ملنے والی شہرت لازماً پائیدار کیریئر میں تبدیل نہیں ہوتی۔شان شاہد کے مطابق سوشل میڈیا سے راتوں رات ملنے والی مقبولیت کی ابتدائی لہر انتہائی طاقتور ہوسکتی ہے، لیکن اگر اس کے پیچھے حقیقی ہنر اور باقاعدہ تربیت موجود نہ ہو تو یہ شہرت زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عارضی شہرت حاصل کی جاسکتی ہے، تاہم ایک وقت کے بعد یہ مرحلہ ختم ہوجاتا ہے۔انہوں نے فوری کامیابی کو شوبز کے لیے ایک بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص فن کی بنیادی چیزیں سیکھے بغیر مقبول ہوجاتا ہے تو اس کے لیے طویل عرصے تک اس شعبے میں اپنا مقام برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔شان شاہد نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے لیجنڈری گلوکار مہدی حسن اور ملکہ ترنم نور جہاں کی مثال دی۔ ان کے مطابق کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لوگ ان دونوں عظیم فنکاروں کے گیت شوق سے سنتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے فن کی مکمل تربیت حاصل کی اور موسیقی کی گہرائی، سر اور راگ کو سمجھا تھا۔پاکستان میں سوشل میڈیا کی مقبولیت اور روایتی شوبز کے درمیان فرق بھی تیزی سے کم ہورہا ہے، جبکہ متعدد ڈیجیٹل کری ایٹرز ٹی وی ڈراموں کے بعد فلمی دنیا میں بھی قدم رکھ رہے ہیں۔اسی سلسلے میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ بھی اداکارہ امر خان کے ساتھ ایک آنے والی پاکستانی فلم کے ذریعے بڑے پردے پر نظر آنے والے ہیں۔ فلم کی ہدایت کاری سید فیصل بخاری کررہے ہیں، جبکہ اس کا اسکرین پلے سرمد ابراہیم نے تحریر کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں