اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کیلئے کوششیں جاری، ایران

ایران کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ثالثی کا عمل جاری ہے۔ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینیوند نے تہران میں نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران توقع کرتا ہے کہ دوسرا فریق معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کا احترام کرے گا۔علی زینیوند کا کہنا تھا کہ ایرانی فریق واضح طور پر چاہتا ہے کہ دوسرا فریق اسی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئے جس پر اس نے خود دستخط کیے تھے۔ ان کے مطابق معاہدے سے متعلق بعض اختلافات کے باوجود یہ ایرانی ریاست کی جانب سے منظور شدہ فیصلہ ہے۔ایرانی ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منظور کیا جبکہ ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے بھی اس کی توثیق کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فعال سفارت کاری جاری ہے اور صدر کی شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے اجلاسوں میں شرکت سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پائی تھی، جس میں جنگ بندی اور وسیع تر امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس مفاہمت میں ثالث اور گواہ کا کردار ادا کیا تھا۔حالیہ دنوں میں چین نے بھی امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے