نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان
ایک جامع جائزہ رپورٹ میں نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے صحت پر منفی اثرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے لیے بچوں اور نوجوانوں پر ویپنگ کے اثرات سے متعلق ہزاروں تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوانوں میں ویپنگ کا استعمال 10 گنا بڑھ چکا ہے، جبکہ متعدد نوجوان کم عمری میں ہی اس عادت کا شکار ہو رہے ہیں۔تحقیق میں ویپنگ کو کھانسی، سانس میں سیٹی، برونکائٹس کی علامات اور دمے کی شدت میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ویپنگ کرنے والے نوجوانوں میں مستقبل میں روایتی سگریٹ نوشی شروع کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔رپورٹ میں ویپنگ کے دیگر ممکنہ اثرات میں نکوٹین کی لت، منہ اور دانتوں کی خراب صحت، اضطراب، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات شامل ہیں۔ نیند، آنکھوں کی صحت اور الرجی پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔رپورٹ کے شریک مصنف پروفیسر وِل کیرول نے کہا کہ ویپنگ کو نوجوانی میں بڑا ہونے کا بے ضرر حصہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس کے سانس کی صحت، نکوٹین پر انحصار اور مستقبل میں سگریٹ نوشی سے واضح روابط سامنے آچکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں