گردوں کی بیماری کی 7 اہم علامات

ویب ڈیسک:گردے جسم کے اہم ترین اعضا میں شامل ہیں جو خون سے فاضل مادے اور اضافی پانی خارج کرنے کے ساتھ جسم میں ضروری توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گردوں کی بیماری بعض اوقات ابتدائی مرحلے میں واضح علامات کے بغیر بھی بڑھ سکتی ہے، اس لیے جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق پیشاب کے معمول میں تبدیلی، جسم کے مختلف حصوں پر سوجن، مسلسل تھکن اور کمر یا پہلو میں درد گردوں سے متعلق مسائل کی ممکنہ علامات ہوسکتی ہیں۔پیشاب کا معمول سے زیادہ یا کم آنا، بار بار حاجت محسوس ہونا، پیشاب میں خون آنا، رنگ یا بو میں نمایاں تبدیلی اور پیشاب کے دوران تکلیف کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر یہ علامات مسلسل برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔اسی طرح بلاوجہ کمزوری، مسلسل تھکن، متلی، قے، بھوک میں کمی، غیر معمولی پیاس یا بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونا بھی طبی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کی صورت میں جسم میں اضافی پانی اور نمکیات جمع ہوسکتے ہیں، جس سے ہاتھوں، پیروں، ٹخنوں یا چہرے پر سوجن ظاہر ہوسکتی ہے۔ جلد کی غیر معمولی خشکی اور خارش بھی بعض افراد میں گردوں کی کمزور کارکردگی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔گردوں کی دائمی بیماری خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے، جس سے تھکن، کمزوری، چکر آنا یا معمولی کام کے دوران سانس پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ بعض صورتوں میں ذائقے میں تبدیلی یا منہ میں ناخوشگوار ذائقہ اور بو بھی محسوس ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے متوازن غذا، نمک کا کم استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے پرہیز اہم ہے۔ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا بھی گردوں کو طویل مدتی نقصان سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔صرف علامات کی بنیاد پر گردوں کی بیماری کی حتمی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔ ضرورت پڑنے پر خون اور پیشاب کے ٹیسٹ، بلڈ پریشر کی جانچ اور الٹرا ساؤنڈ سمیت دیگر طبی معائنے کیے جاتے ہیں، اس لیے مسلسل علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے