ناسا نے چاند سے ٹکرانے والے اسپیس ایکس راکٹ کے گڑھے کی واضح تصاویر جاری کردیں

نیویارک: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے چاند کی سطح پر اسپیس ایکس کے راکٹ کے ٹکرانے کے بعد بننے والے گڑھے کی اب تک کی واضح تصاویر جاری کردی ہیں۔ناسا کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا اوپری حصہ 5 اگست 2026 کو تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرایا۔ یہ راکٹ جنوری 2025 میں لانچ کیا گیا تھا اور اس کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک خلا میں گردش کرتا رہا۔یہ راکٹ 2025 میں دو نجی قمری مشنز اور ایک چھوٹی روور گاڑی کو چاند کی جانب روانہ کرنے والی مہم کا حصہ تھا، جسے ناسا کی جانب سے چاند کی تلاش میں نجی کمپنیوں کے کردار کو بڑھانے کی کوششوں سے جوڑا گیا تھا۔ناسا کی جانب سے جاری کی گئی نئی تصاویر میں راکٹ کے ٹکرانے سے پہلے اور بعد میں اس مقام کا موازنہ بھی کیا گیا ہے، جس سے چاند کی سطح پر پڑنے والے اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں بننے والا نیا گڑھا تقریباً 60 فٹ چوڑا اور 10 فٹ سے بھی کم گہرا ہے۔تصاویر میں گڑھے کے گرد چاند کی سطح پر روشن اور گہرے رنگ کی لکیریں بھی دکھائی دیتی ہیں، جو راکٹ کے ٹکرانے کے نتیجے میں سطح سے اڑنے والے ملبے اور چاند کی مٹی کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ناسا کے مطابق یہ تصاویر چاند پر ہونے والے اس غیر ارادی راکٹ ٹکراؤ کے اثرات کو سمجھنے میں سائنس دانوں کے لیے اہم ثابت ہوں گی اور مستقبل میں چاند کی سطح پر خلائی ملبے کے اثرات کا جائزہ لینے میں بھی مدد دیں گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے