جو اماں ملے تو کہاں ملے؟
لکھتا ہے (Sarokin: 1889-1968)معروف روسی ماہر عمرانیات پروفیسر ساروکن
بدیہی شہادتوں کے پیشِ نظر مجھے اس بات کا پوری طرح اطمینان ہو گیا ہے کہ ہماری زندگی کا ہر شعبہ، ہماری تنظیم اور ہماری سوسائٹی، ایک زبردست بحران سے گزررہی ہے۔ جسم کا کوئی حصہ ، قلب و دماغ کا کوئی ریشہ ایسا نہیں ہے جو صحیح طور پر کام کررہا ہو۔ ہمارے سارے بدن ناسور ہیں۔(دیکھیے اس کی کتاب: The Crisis of Our Age)
اس بحران سے نمٹنے کا طریقہ کیا ہے؟ معاشرتی اداروں کے استحکام کی کاوش۔۔۔جی ہاں، معاشرتی ادارے دو طرح کے ہیں ایک فطری اور دوسرے انسان کے خود ساختہ۔ فطری اداروں میں سب سے پہلا خاندان ہے، جو نظام معاشرت کی بنیادی اکائی ہے۔ اس کے بعد ماحول اور معاشرہ ہے جو انسان کی اجتماعی زندگی کا مربوط نظام ہے جس کے تحت ایک دوسرے کی ضروریات باہمی تعاون و تعلق کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔
اس کے بعد انسان کی اصلاح اور تربیت کے لئے مذہبی ادارے ہیں ۔معاشرے کی اخلاقی اور روحانی پہلو کی نشوونما کے لئے مذہبی اداروں کا وجود اہم ہے جو انسان میں اعلیٰ صفات اور اخلاقیات پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایسے اداروں کی اصلاح آج ناممکن نظر آتی ہے مگر اس کے بغیر چارہ کار ہی نہیں۔
نظام معاشرت کے دیگر ستون جو انسان نے خود ترتیب دیئے، سماجی اور سیاسی ادارے ہیں، جن میں کچھ کی رکنیت رضا کارانہ طور پر اختیار کی جاتی ہے جیسے سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں…جبکہ کچھ کی رکنیت اور دائرہ کار میں آنا ہر فرد معاشرہ کے لئے ضروری ہوتا ہے جیسے ریاست و حکومت۔
ان اداروں میں موجود مقتدر قوتوں کو یہ سوچنا پڑے گا کہ انسانیت کی بقا کے لیے اپنے معاشرتی اور سماجی کردار کو کیسے تلاش کرنا ہے اور پھر نبھانا کیسے ہے۔
اگر پوری دنیا کی اس وقت کی معاشرتی حالت کا تجزیہ کیا جائے تو یہ المناک صورتحال سامنے آتی ہے کہ انسانی تہذیب کے یہ سارے ادارے تنزلی اور زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ خاندان کا نظام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں دن بدن بکھرتا جارہا ہے۔ مردوعورت کے آزادانہ اختلاط اور مذہب و اخلاق سے دوری نے اس رجحان کو جنم دیا ہے کہ ان کا باہمی تعلق جسمانی اور جنسی لذت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور بس!
مستقبل کی انسانیت کی تعمیر اور اولاد کی پرورش و نشوونما کی ذمہ داری کوئی مرد و عورت اٹھانے کو تیار نہیں۔ انسانی نسلیں غیر مستند ہورہی ہیں اور شناخت کے المیے سے دوچار ہوکر بے شمار نفسیاتی مسائل کا شکار ہوچکی ہیں۔ جنسی مسائل اور بیماریاں انسان کو زندہ درگور کئے جارہی ہیں۔ معاشی ترقی کے عروج پر پہنچنے والے معاشروں کے سب مسائل حل ہو گئے مگر معاشرتی بحران کا جن بوتل سے باہر ہے۔
اسی طرح انسان نے وحی الٰہی کو ناقابل اعتبار قرار دےکر اپنے لئے فکری و نظریاتی مسائل کو مصائب کی شکل دے دی ہے۔ مذہب و اخلاق کی ضرورت اور اہمیت سے لاپرواہ ہو کر انسان ، حالات کے دھارے اور خواہشات کے خسارے میں گھر چکاہے۔ اخلاقی اصولوں سے دور رہ کر انسان ماحول کی پیداوار ٹھہرتا ہے اور آخرکار جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے۔ مذہب تو انسان کی ضرورت ہے جو اسے عزت و شرف سے ہمکنار کرتی اور اس کی سماجی تربیت اور روحانی نشوونما کا اہتمام کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ انسانی میں کوئی قوم اور کوئی ایسا معاشرہ نظر نہیں آتا جس میں اخلاقی اصول نہ ہوں۔ ماضی کی تباہ شدہ قوموں اور تہذیبوں کے جتنے آثار آج دریافت ہوئے ہیں ان میں اور کچھ ملے نہ ملے عبادت گاہیں ضرور ملتی ہیں ، جو مذہب کے معاشرتی کردار کا بیّن ثبوت ہیں ۔ مذکورہ قومیں اخلاقی بحرانوں ہی کی زد میں آکر زوال آشنا ہوئی ہیں۔دورجدید کی معاشرت بھی اخلاقی قدروں سے پہلوتہی کرکے تہذیبی بگاڑ کا شکار ہوچکی ہے۔
جدید طرز معاشرت ،تہذیب و تمدن کے فطری اداروں کو مسمارکرتا جارہا ہے جبکہ خالص میکانکی انداز میں اپنی سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک مصنوعی نظام ترتیب دے رہا ہے۔ دورِ جدید کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ زندگی کی سہولتوں سے تو فیضیاب ہورہا ہے مگر ایمان کی دولت سے محروم ہوگیا ہے۔ زندگی کے خارجی اور بیرونی دائروں کو تو وہ مربوط کررہا ہے مگرا س کے اندر کی کائنات بکھرچکی ہے۔
خیرخواہی، ہمدردی، ایثار، صبر اور قناعت سے محروم انسان گھر، خاندان، معاشرہ، مذہب اور ریاست سے روگردانی کررہا ہے، جبکہ بازار میں یہ مشینی انسان، فلاحی مراکز، بچوں کی نگہداشت کے ادارے، بوڑھوں کی نگرانی کے مراکز، معذوروں کی مدد کے سنٹرز…قائم کرکے ”مطمئن” ہے کہ وہ ”مہذب ”زندگی گزاررہا ہے! اس نے معاشرتی خود کشی کا اہتمام یوں کرلیا ہے کہ تہذیبی و اخلاقی روایت کو پروان چڑھانے والے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے والے تربیت کے اداروں کو بھی خود غرضی کی صلیب پر چڑھادیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں