قطر کا غزہ جنگ بندی مذاکرات سے دستبرداری کا فیصلہ

قطر نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ثالثی کی کوششوں کو اس وقت تک روکنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک حماس اور اسرائیل دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کا مخلصانہ ارادہ نہیں دکھاتے۔ رائیٹرز کے مطابق ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ فیصلہ جنگ بندی کی کوششوں کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا ہے۔

اکتوبر کے وسط میں ہونے والے مذاکرات کا تازہ ترین دور کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہا، جس میں حماس نے قلیل مدتی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے 24 اکتوبر کو مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے ملاقات کی۔ قطر کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حماس کا سیاسی دفتر اب اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتا، جس سے فلسطینی گروہ کو مزید دھچکا پہنچا ہے۔

قطر، امریکا اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اب تک کی ناکام کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے