پہلی بار بھیک مانگنے پر وارننگ یا ایک ماہ قید، دوبارہ ایک سال قید کی سزا ہوگی، کے پی میں گداگری کے خاتمے کیلئے بل پیش
خیبر پختونخوا اسمبلی میں گداگری کے خاتمے کے لیے ویگرینسی ایکٹ 2026 اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس مسند نشین ادریس خٹک کے زیر صدارت دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا جس میں گداگری کے خاتمے کے لیے اہم بل پیش کیا گیا۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ویگرینسی ایکٹ 2026 کا مجوزہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بل کے مطابق یہ قانون پورے صوبے میں نافذ ہوگا اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت گداگری کے خاتمے کے لیے ایک صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی، جسے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل میں پہلی بار بھیک مانگنے پر وارننگ یا ایک ماہ قید جبکہ دوبارہ جرم پر ایک سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، دھوکا دہی سے بھیک مانگنے پر دو سال قید جبکہ منظم گروہوں کے لیے تین سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔
بل میں بچوں سے بھیک منگوانے والوں کے لیے چار لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا، قانون کے تحت پولیس اور سوشل ویلفیئر حکام کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار دیا جائے گا جبکہ گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر اسپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔
عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ سزا کے بجائے ملزمان کو بحالی مراکز بھیج سکے، بحالی مراکز میں فنی تربیت اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے گی جبکہ ویگرینسی کنٹرول فنڈ کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے جس میں جرمانے اور عطیات شامل ہوں گے۔
بل کے مطابق بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے کیا جائے گا جبکہ غیر مقامی بھکاریوں کو واپس بھیجا جائے گا۔
مزید برآں بائیومیٹرک اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھکاریوں کی نگرانی کی جائے گی اور عوامی مقامات پر بھیک مانگنا باقاعدہ جرم قرار دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی ہر تین ماہ بعد قانون پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لے گی تاکہ گداگری کے خاتمے کے لیے اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں