امریکا میں پولنگ ،واشنگٹن میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

امریکا کے صدارتی انتخابات کیلیے واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ، خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے اردگرد حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ۔ الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار کمالا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے ۔ لاکھوں امریکی الیکشن میں حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں ، پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے ہوا جب ورمونٹ کے کچھ حصوں میں پولنگ اسٹیشنز کھل گئے۔ چھ بجے کنیکٹیکٹ، نیو جرسی، نیویارک، ورجینیا، کینٹکی اور مین کے کچھ علاقوں میں بڑے پیمانے پر پولنگ شروع ہوئی، جبکہ شمالی کیرولائنا، اوہائیو، اور ویسٹ ورجینیا میں پولنگ کا آغاز 6:30 بجے ہوا۔پولنگ کے وقت مختلف ریاستوں میں الگ الگ ہیں۔ پولنگ کے وقت کا اختتام ہوائی میں دن 12 بجے ہوگا

جبکہ الاسکا میں رات ایک بجے ہو گا ۔ جو لوگ پولنگ اسٹیشن کے سرکاری وقت پر قطار میں موجود ہوں گے ، انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی ۔سوئنگ اسٹیٹس میں مقابلہ سختامریکی انتخابات میں سوئنگ اسٹیٹس توجہ کا مرکز ہیں ۔ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ اس بار الیکشن کا نتیجہ قومی انتخاب کے بجائے سات اہم سوئنگ ریاستوں پر منحصر ہو گا۔ سوئنگ اسٹیٹس میں ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، پنسلوانیا، شمالی کیرولائنا، اور وسکونسن شامل ہیں ۔ ان ریاستوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان فرق بہت کم ہے، جس سے واضح نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔

الیکشن سے پہلے ہونے والے سرویز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ایریزونا میں 2.8%، جارجیا میں 1.3% اور شمالی کیرولائنا میں 1.2% کی برتری حاصل تھی جبکہ کمالا ہیرس مشی گن میں 0.5% اور وسکونسن میں 0.4% کے معمولی فرق سے آگے تھیں ۔کونگریس کا کنٹرول بھی داؤ پرصدر کے انتخاب کے ساتھ ساتھ کانگریس کی 34 سینیٹ نشستوں اور ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں کا فیصلہ ہوگا۔ سینیٹ کی مشی گن، اوہائیو، پنسلوانیا اور وسکونسن کی نشستوں پر مقابلہ سخت ہے ۔ ریپبلکنز کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کا معمولی فائدہ حاصل ہے۔

ایوان نمائندگان میں بھی دونوں جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور چند درجن مقابلے فیصلہ کریں گے کہ کون سی پارٹی ایوان پر قابض ہوگی۔امریکی میڈیا کے مطابق انتخابات کا نتیجہ آنے تک کسی بھی پارٹی کی اکثریت واضح طور پر سامنے آنے کا امکان نہیں ہے اور اہم ریاستوں میں ووٹنگ کے قریبی نتائج کی وجہ سے منگل کی رات کسی واضح فاتح کا اعلان مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے