کے پی کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، مجبوری میں گورنر راج لگایا، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو جلتا ہوا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں ہوا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، اعلیٰ عسکری قیادت اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فرمائے۔ انہوں نے پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر بھی افسوس کا اظہار کیا، جس میں ایک خاتون ٹیچر اور بچے جاں بحق ہوئے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا کو متاثرہ مقام کا فوری دورہ کرنے اور سانحے کی مکمل تحقیقات کرانے کی ہدایت کی تھی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق بہادر افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیوں کے بعد خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا اور 2018 تک صوبے میں مکمل امن قائم ہوچکا تھا۔ یہ امن سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ماؤں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ خیبر پختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اور متعدد گھرانے اجڑ گئے۔ ان کا الزام تھا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے ماضی کی قربانیوں کے نتائج متاثر ہوئے اور اس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم، صحت، امن اور عوامی فلاح کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث حالیہ برسوں میں دہشت گردی دوبارہ بڑھ گئی۔شہباز شریف کے مطابق گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ سیف سٹی منصوبہ بھی تاحال نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے محکمے اور پولیس کی تربیت پر بھی مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی اور سیکیورٹی فورسز کو جدید اسلحہ، آلات اور تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پوری نہیں کی گئی۔وزیراعظم نے بتایا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا، کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر تھا۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی رقم خیبر پختونخوا کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور 2010 کے بعد سے صوبے کو انسداد دہشت گردی کی مد میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے وسائل کے باوجود دہشت گردی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے سابق وزرائے اعلیٰ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انسداد دہشت گردی کے لیے صوبے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی گئی اور سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں سے معیشت مستحکم ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف دوست ممالک کے ساتھ دیگر حلقے بھی کررہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو مزید بدامنی اور خون ریزی کا شکار ہوتے دیکھتی رہتی؟ وزیراعظم کے مطابق اس معاملے پر ایک سیاسی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کے لیے محنت کی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے خراب حالات پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی گئی، جس کے بعد سخت فیصلے کرنا پڑے۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے معاملات میں بہتری لانے کے لیے مشاورتی کونسل قائم ہوچکی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ 13 برس سے اپنے مسائل کے حل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور صوبے میں سیکیورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہوں گے۔شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں مبینہ کرپشن کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جبکہ کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی بدعنوانی سامنے آئی۔ انہوں نے پلیسر گولڈ منصوبے میں بھی من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ جو جماعت کرپشن کے خاتمے کے نام پر اقتدار میں آئی تھی، اس کے دور میں صوبے میں کرپشن کی مختلف کہانیاں سامنے آئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اٹھائے گئے اقدامات کے لیے آئین اور قانون اختیار فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے پر اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی سرزمین ہے اور قیام پاکستان کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج صوبے کے عوام دہشت گردی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے تعاون سے صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے، امن بحال کرنے اور ترقی و خوشحالی کا دور واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس نے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے وفاقی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق اگر پاکستان کے تمام ادارے ایک صفحے پر ہوں تو امن اور ترقی کا عمل نہیں روکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایپکس کمیٹی کا مقصد صوبے کے مسائل کے حل کے لیے قابل عمل حکمت عملی وضع کرنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور ترقی کے عمل میں شریک ہوسکے۔گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون جاری رہنا چاہیے۔ اجلاس سے قبل صوبائی ایڈوائزری کونسل کے ارکان وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس پہنچے، جبکہ علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام بھی وہاں موجود تھے۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا یہ پشاور کا پہلا دورہ تھا۔ ان کے ہمراہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام بھی موجود تھے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں